اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 211
211 ہمیں ربوہ کا سوال و جواب کا زمانہ یاد آ گیا۔بہر کیف چونکہ میں تو کتابیں لے کر نہیں گیا تھا۔حضور کا ارشاد تھا تو میں نے سات دن انڈیا آفس لائبریری میں لگائے۔صبح ٹیوب ( زیر زمین ریل) پر جاتا تھا اور شام کو آتا تھا۔تو جتنی اہم کتابیں حوالوں کی مجھے مل سکتی تھیں میں نے ان کی فوٹو کاپی کر والی۔یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔وہ جو لکھنو والا ایڈیشن تھا۔یہ 1974 ء سے پہلے کی بات ہے۔میں نے حاصل مطالعہ کا ایک سلسلہ اس زمانہ میں جاری کر رکھا تھا۔اب بھی الفضل انٹرنیشنل میں چلتا ہے۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب اس کو بڑے خاص انداز سے ماہنامہ الفرقان میں سے شائع کرتے تھے۔اس حاصل مطالعہ میں میں نے یہ حوالہ جواب میں پڑھنے لگا ہوں یہ بھی دیا حضرت فاطمہ الزہر اٹھ کے متعلق۔تو اس پر بڑا شور مچا۔مختلف مذہبی حلقوں نے مرکزی حکومت کو توجہ دلائی۔انہوں نے پھر یہاں کے ڈپٹی کمشنر صاحب کو کہا کہ اس ظالم شخص کی گرفت ہونی چاہئے۔ایک نوٹس آیا حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے نام کہ تم نے یہ حوالہ شائع کیا ہے اور میرے نام کے متعلق کہا کہ اس کی طرف سے شائع کیا گیا ہے اور آپ نے شائع کیا ہے اور آپ کو پتا نہیں ہے کہ اس سے تو حضرت فاطمہ الزہرائو کی بہت تو ہین ہوتی ہے؟ تو جواب دیں کہ آپ کے خلاف کیوں نہ کارروائی کی جائے۔تو حضرت مولانا نے مشورہ کیا تو میں نے ان سے یہ عرض کی کہ آپ وکلاء سے مل کر ان کو جواب دیں کہ یہ ہمارے حاصل مطالعہ لکھنے والے جو اہل قلم ہیں، انہوں نے تو اپنی کوئی بات ہی نہیں کی۔یہ تو سو سال پہلے ایک عالم دین کا کشف ہے جو حوالہ کے ساتھ انہوں نے شائع کیا ہے۔اور یہ کشف پہلی دفعہ لکھنو میں چھپا ہے۔تو اگر اس میں کوئی ایسی بات تھی تو سارے متحدہ ہندوستان میں سب سے بڑا مرکز تو شیعہ حضرات کا ، امامیہ فرقہ اثنا عشریہ کا لکھنو میں ہے ، تو اس وقت کے شیعہ لیڈروں نے کیوں اس کے خلاف احتجاج نہ کیا۔ڈپٹی کمشنر صاحب کی طرف سے یہ جواب آیا کہ آپ وہ کتاب بھجوا دیں جو کہ اس زمانہ میں لکھنو سے چھپی تھی۔مجھے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کہنے لگے کہ وہ کتاب چاہئے۔میں نے کہا کہ کیوں۔کہنے لگے کہ یہ کتاب۔D۔C صاحب نے منگوائی ہے۔میں نے کہا کہ کل عرض کروں گا۔میں نے پھر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث سے ذکر کیا۔میں نے کہا حضور یہ کتاب اگر وہاں چلی گئی تو پھر واپس نہیں آ سکتی۔ایک مستقل ثبوت ضائع ہو جائے گا اور پھر ہم یہ بات لکھ ہی نہیں سکیں گے۔