اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 210
210 میں اس وقت ایسا محسوس کرتا ہوں کہ میں رسول اللہ ہے کے ساتھ ایک جگہ میں رہتا ہوں اور بیٹے کی طرح اپنے باپ کے ساتھ زندگی گزارتا ہوں۔“ بالکل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انداز میں۔کیونکہ عشق رسول کا چشمہ تو دونوں کا ایک ہے۔فرماتے ہیں :۔وو " رسول اللہ ﷺ اور ان کے اہل بیت میرے لئے اجنبی نہیں ہیں اور میں نے اس کاغذ کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں پکڑ رکھا ہے اور فرزندان محرم کی طرح میں بھی ان کے حرم شریف میں داخل ہو گیا ہوں۔امہات المومنین میں سے سب سے بڑی ماں نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں مجھے بعض خدمات کا اہتمام سے حکم دیا ہے اور فرمایا ہمیں تمہارا انتظار تھا۔اس طرح کرنا چاہئے اور اس وقت میں خواب سے بیدار ہو گیا۔“ (مکتوبات امام ربانی (اردو) صفحہ 1566 ناشر مدینہ پبلشنگ کمپنی بندر روڈ کراچی) یہ حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا کشف ہے جو مکتوبات میں موجود ہے۔اسی طرح ایک بزرگ گزرے ہیں جن کو اپنے زمانے کا عظیم سالک بھی کہا جاتا ہے۔ان کے متعلق جناب مولوی سید محمد علی صاحب نے ارشا درحمانی و فضل یزدانی‘ ایک کتاب شائع کی جو عرصہ ہوا درویش پریس دہلی میں طبع ہوئی تھی۔اس کا وہ ایڈیشن جولکھنو میں چھپا تھا۔وہ اصل میرے پاس موجود تھا۔یہ جو میں نے اب دیکھا کہ لندن سے بھی حاصل کی ہے۔اس کے اوپر انڈیا آفس کی مہر لکھی ہوئی ہے۔یہاں جو میرے پاس تھا چونکہ میں جب 1985ء میں گیا ہوں تو میرا خیال تھا کہ میں بس جلسہ سن کر نمائندہ کی حیثیت سے واپس آ جاؤں گا، مگر حضور ( حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ) نے فرمایا چھ مہینے تم نے یہاں رہنا چاہئے اور جس طرح سوال و جواب کی مجلسیں تم ربوہ میں قائم کرتے رہے ہو وہی مجلسیں تمہیں یہاں کرنی ہوں گی۔چنانچہ حضور خلیفتہ اسیح الرابع کے ارشاد پر انگلستان میں بریڈ فورڈ ، ہڈرز فیلڈ، برمنگھم اور اس طرح اور دوسرے مقامات کے علاوہ پھر جرمنی اور اس کے علاوہ ناروے ،سویڈن، ڈنمارک، ان علاقوں میں اللہ کے فضل سے توفیق ملی اور وہاں پر اکثر پھر اطلاعات حضور کو یہی ملیں کہ