اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 202
202 علیہ السلام کا عاشق صادق ہے۔اس کے ایک شعر کو بیہودگی اور بے شرمی کے ساتھ دوسرے معنی پہنا کر خود حسین علیہ السلام کی تذلیل اور تحقیر اور گستاخی کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقاد ر کھتے ہیں کہ یزید ایک نا پاک طبع دنیا کا کیڑہ اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے وہ معنی اس میں موجود نہیں تھے“ پھر فرماتے ہیں:۔دد مگر حسین رضی اللہ عنہ ظاہر مطہر تھا اور بلا شبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے وجب سلب ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت الہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔(ایک ایک لفظ سے ایک بڑا مقام بن سکتا ہے۔ناقل ) اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس شخص کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیاوہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کا قد رمگر وہی جو اُن میں سے ہے۔“ یزیدیوں کو کیا علم ہے حسین کی شان کیا تھی؟ فرماتے ہیں:۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کا قدر مگر وہی جو اُن میں سے ہے۔دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا