اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 198 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 198

198 صاحب اس وقت زندہ تھے ) اور اس کی پارٹی ایک سیاسی پارٹی ہے۔اس کے سوا کوئی حیثیت نہیں۔انہوں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی حدیث پڑھی نہ ان کو ضرورت ہے۔ایک کمیونسٹ کو کیا ضرورت پڑی ہے۔لیکن حیرت کی بات ہے جب بیٹی خان صاحب کے لیگل فریم ورک کے مطابق انتخابات شروع ہونے لگے تو بھٹو پارٹی بعد میں پہنچی اور ملاں پہلے پہنچا ہوا تھا۔66 ہم نے سوچا کہ یہ لوگ ساری عمر رسول اللہ کی حدیث پڑھتے رہے۔جن میں اہلحدیث بھی ہیں اور جماعت اسلامی والے بھی ہیں کہ وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو خود کوئی عہد ہ طلب کرنے کے لئے پراپیگنڈہ کرتا ہے یا کوشش کرتا ہے مگر عجیب لوگ ہیں کہ اس حدیث رسول کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر ملاں سب سے پہلے پہنچا ہے۔تو جماعت احمدیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم دہر یہ اور کمیونسٹوں کو ووٹ دیں گے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے ان گستاخوں کو ووٹ نہیں دے سکتے جوساری عمر رسول اللہ کی حدیث پڑھتے رہے اور اقتدار کی خاطر خدا کے رسول کی بات کی ایسی بے حرمتی کی کہ اس کو پارہ پارہ کر کے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور اقتدار کی خاطر میدان انتخاب میں آگئے۔کہنے لگے تم نے ٹھیک کیا۔میں جب واپس آیا۔طریق یہ تھا کہ فورا حضور کی خدمت میں رپورٹ پیش کرتا تھا یا اگر نماز کا وقت ہوتا تو پھر نماز کے معا بعد حضور چلتے چلتے مجھ سے پوچھ لیتے۔میں نے جب یہ بات کی تو حضور بہت خوش ہوئے۔فرمایا کہ تم نے بہترین وکالت اور ترجمانی کی ہے جماعت احمدیہ کی۔تو ہین حسین علیہ السلام کا جواب ڈاکٹرسلطان احمد مبشر صاحب:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی مصرع ”صد حسین است در گریبانم پر اعتراض کیا جاتا ہے جو اسمبلی میں بھی کیا گیا کہ اس سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی تو ہین ہوتی ہے۔اس سوال کے جواب میں حضور نے کیا ارشاد فرمایا ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ واقعی جس طرح آپ نے فرمایا ہے اشتعال دلانے کے لئے ، استہزاء کے لئے تو محمدی بیگم کی پیشگوئی اورسنی اور شیعہ حلقوں میں اشتعال کے لئے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔سوالات کیونکہ بے شمار تھے اور حضور حضرت خلیفہ اسیح صرف اسمبلی کے دانشوروں