اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 194
194 بربادی سمجھیں گے اور شیر کے جانے کے بعد مسلمانوں کا قتل عام اور خون ہو جائے گا۔یہ مسلک تھا۔اقلیت اس وقت کیوں کہا گیا تھا ؟ مسلمان کیوں کہتے تھے کہ اقلیت کے حقوق ہمیں دیئے جائیں۔اس لئے کہ ڈیموکریسی ہو یا فیڈریشن ہو یا کنفیڈریشن ہوا کثریتی پارٹی جو ہوتی ہے خواہ وہ مذہبی ہو ، Political ہو یا معاشی بنیادوں پر قائم کی گئی ہو، جس طرح کی مثلاً ٹوری پارٹی ہے یا کنزرویٹو پارٹی ہے یاڈیموکریٹک پارٹیاں ہیں، کینیڈا میں ہیں یا انگلستان میں۔ہر ملک میں یہی صورتحال ہے تو واضح بات ہے کہ زیادہ تر حقوق معاشی اور ملکی جو ہیں وہ اکثریتی پارٹی کے پاس چلے جاتے ہیں۔کلیدی اسامیاں ان کے پاس ہوتی ہیں۔اقلیتی گروپ جو ہے وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے، تو اقلیت اس کو قرار دیا جاتا ہے جس کے متعلق یہ تسلیم کیا جائے کہ اکثریتی پارٹی کی زد میں ان کے حقوق آجائیں گے۔تو اصل حقوق سے بھی زیادہ ان کو دئے جاتے ہیں تاکہ عوام میں ان کی بھی آواز ہو اور سرکاری حلقوں میں ان کو بھی ملازمتیں مل سکیں۔اقلیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر مرتد سمجھتے ہیں اور مرتد کی سزا قتل ہے۔یہ ہے ان کا خیال اور تصور ان کا تو میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا تھا۔لاہوری گروپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ حافظ محمد نصر اللہ صاحب : جماعت احمدیہ کا ایک گروپ جو خلافت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے حوالے سے اختلاف کے بعد ہم سے علیحدہ ہوا اور لاہوری گروپ“ کہلایا۔اس حوالے سے بھی حضور سے سوال پوچھا گیا کہ آپ انہیں کیا سمجھتے ہیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب: بس حضور نے ایک ہی لفظ میں جواب دیا۔احمدی۔حافظ محمد نصر اللہ صاحب : یعنی با وجود اس اختلاف کے ، ہم انہیں احمدی ہی سمجھتے ہیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔احمدی ہی سمجھتے ہیں۔اب میں آپ سے عرض کروں کہ تمام خلفاء، حضرت مصلح موعودؓ نے بھی فرمایا کہ جو لوگ خلافت سے الگ ہیں وہ نظام جماعت سے ضرور الگ ہیں مگر جب خود اپنے تئیں احمدی کہتے ہیں ہم ان کو غیر احمدی کیسے کہہ سکتے ہیں۔یہی ہمارا مسلک ہے۔ایک شخص کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ہم یقینا اسکو مسلمان کہیں گے۔ایک کہے گا میرا