اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 195 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 195

195 ہندو ازم سے تعلق ہے ہم اس کو ہندو کہیں گے۔تو یہ بنیا دی مسلک ہے جماعت احمدیہ کا۔اب میں ایک چھوٹی سی بات اس سلسلے میں کہنی چاہتا ہوں کہ حضرت خلیفتہ اسح الثالث" کا جواب تو میں نے عرض کر دیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی اجازت سے ہی میں جلسوں میں جاتا تھا خواہ خدام کے جلسے ہوں۔بدوملہی میں مثلاً مولانا عطاء المجیب راشد صاحب اس وقت خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے صدر تھے، ان کے ساتھ وہاں پر گئے۔اس کے علاوہ بھی کئی موقعوں پر جانے کا موقع ملا۔تو بڑی دلچسپ بات ہوئی۔وہاں پر کسی زمانہ میں بڑی مضبوط غیر مبائعین کی جماعت سمجھی جاتی تھی۔وہاں دو باتیں ہوئیں۔ایک بات تو اس وقت ہوئی جبکہ میں بدوملہی کے پریذیڈنٹ صاحب کی بیٹھک میں بیٹھا کتا بیں کھولے، اپنے آخری نوٹ لکھ رہا تھا اور چار پانچ منٹ باقی ہوں گے۔یوم مسیح موعود علیہ السلام کی تقریب تھی۔میں کچھ لکھ رہا تھا۔کتابوں کو تر تیب دے رہا تھا تو ایک پُر جوش داعی الی اللہ نو جوان تھے، انہوں نے السلام علیکم کہا اور آگے آئے اور ساتھ دو بڑی بڑی لمبی داڑھی رکھنے والے اہلحدیث بزرگ عالم بھی تھے۔خاصی بڑی عمر تھی ان کی اور اِذَا جَاءَ لمُ كَرِيمُ قَوْمٍ فَاكْرِمُوهُ ( سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب اذا جاء كم كريم قوم فأكرموه ) آنحضور کا ارشاد ہے۔کسی قوم کا کوئی معزز شخص آئے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔یہی ارشاد نبوی ہے یہی ہم نے اختیار کیا ہے۔یہ نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پچھلے سے پچھلے سال (یعنی 2005ء میں ) لدھیانہ سے جب گذرنے والے تھے تو وہاں حبیب الرحمان بوکے کی جو اولاد رہتی ہے۔انہوں نے ہندوؤں کی طرح وہاں پر حضرت خلیفۃ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی آمد پر آپ کے نام پر پہلے جلانے شروع کئے۔ہندوؤں کا یہی ہوتا ہے کہ جب کسی کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر اس کے پتلے جلاتے ہیں اور یہ صورت پھر بعد میں باہر کی دنیا نے بھی کی۔بہر حال یہ خبر ہند سماچار میں آئی یہ ان کا اکرام کا انداز تھا! رسول اللہ نے تو یہ فرمایا تھا کہ اکرام کیا جانا چاہئے اور احراری چونکہ مجسم کا نگرسی اور کمیونسٹ تھے انہوں نے اس وقت ہندوؤں کی طرح پتلے جلائے اور پتلے جلاتے ہیں ہندو۔اس وقت جبکہ کوئی ہندو بیرونی ملک میں مر جائے تو اس کی چتا کو تو آگ نہیں لگا