اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 180
180 حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے مرید سید محمد سعید صاحب نے ان کی سوانح لکھی ہے۔لکھتے ہیں کچھ آپ کے ملفوظات کا تذکرہ کرنے کے بعد کہ:۔بعد ازاں آپ کے پوتے (حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے پوتے۔ناقل ) صاحبزادہ محمد امین صاحب آئے۔آپ نے پوچھا۔اے بیٹے کون سی سورت پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا سورت نور۔آپ نے تبسم کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا۔صورت مرزے یار دی ساری سورت نور غفور و الشمس والضحیٰ پڑھیا رب بندہ نے عرض کیا۔مرزا سے کیا مراد ہے (اب یہ غور فرمائیں ) بندہ نے عرض کیا۔مرزا سے کیا مراد ہے۔فرمایا رسول خدا ( محمد مصطفی ﷺ ) '' پھر فرمایا عاشقوں کا دستور ہے کہ وہ اپنے معشوق کو مرزا یا رانجھا کہہ کر یاد کرتے ہیں۔(اردو ترجمہ ”مرأت العاشقین، صفحہ 272 ناشر اسلامک بک فاؤنڈیشن N۔249 سمن آبا دلا ہور ) وہ بہت شریف النفس بزرگ تھے۔کہنے لگے آج سے میں احمدی بھی ہوں اور مرزائی بھی ہوں۔میں نے کہا آپ کو اس سلسلے میں ایک اور بات بھی بتاؤں۔یہ تو بات تھی حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی اور چشتی خانوادے میں حضرت خواجہ غلام فرید کا مقام تو آپ کے سامنے ہے۔” مقابیس المجالس، ان کے ملفوظات کی کتاب ہے۔اس کے ترجمہ کے صفحہ 560-561 میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ صاحب کے سامنے قوالوں نے دوھڑے پڑھے اور آخری مصرعہ پر حضرت خواجہ پر بہت گر یہ طاری ہوا۔اس کے بعد حضرت اقدس کے حکم سے مہاروی قوالوں نے گانا شروع کیا۔اشعاریہ تھے۔