اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 176 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 176

176 کوتاہ نظروں کی کوتاہ نظری نے مرزائیت کے خلاف اس طرح کا محاذ بنایا کہ جو اہل مرزائیت کو اشتعال دلانے اور اپنے عقیدے میں مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوئے۔سستی نعرہ بازی ، اوچھے حملوں اور فحش گالیوں سے مرصع گفتگو کسی کو قائل تو نہیں کر سکتی ، غصہ ضرور دلا سکتی ہے۔چنانچہ مرزائیت کے خلاف کئی ایسے مبلغین بھی ابھرے جنہوں نے عامیوں کے ذوق کو ابھار کر داد تحسین تو حاصل کر لی، فاتح قادیان اور فاتح ربوہ بھی کہلائے لیکن مرزائیت کی جڑ نہ مار سکے۔“ یہ خدا کی نصرت کا نشان ہے جو ہمیشہ ہی ان پھبتیوں اور گالیوں کے مقابل پر عرش کے خدا نے مسیح موعود کی جماعت کے لئے دکھایا ہے۔ع ایک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کر دگار مجھے ایک خیال چھوٹا سا آ گیا ہے۔وہ بھی اس کا ایک ضمیمہ ہے بہت اہم۔ان گالیوں میں سب سے بڑی صورت جو سیاسی دماغوں نے سوچی ہے مخالفین کے لئے ، وہ ہمیشہ سے دنیا کی ہر جگہ پر، اپوزیشن استعمال کرتی ہے، مخالفین استعمال کرتے ہیں۔مذہبی سطح پر بھی ، سیاسی سطح پر بھی اور معاشرتی انداز سے بھی کہ کسی قوم یا جماعت یا کسی شخص کا اصل نام بگاڑ کر پہلے تو ایک نام تجویز کیا جاتا ہے، پھر ساری برائیاں اس کی طرف منسوب کر کے اس انداز میں پبلک کو بتایا جاتا ہے کہ جس وقت وہ نام عوام کے سامنے آئے تو اس نام کی وجہ سے تمام برائیاں خود بخود منعکس ہو جائیں۔یہ ہتھکنڈہ اور حربہ مدت سے شیطان کے چیلے اختیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔قرآن تو کہتا ہے وَلَا تَنَا بَزُوا بِالُ الْقَابِ کہ دیکھو ایسے ناموں سے یاد نہ کیا کرو جو دوسرے کے لئے دل آزاری کا موجب ہوں یا حقیقت کے خلاف ہوں۔اب دیکھیں ظالمانہ بات ہے کہ اہلحدیث نے کبھی اپنے تئیں وہابی نہیں قرار دیا۔محمد بن عبد الوہاب تو ابن تیمیہ کے شاگرد تھے اور ان کا تعلق اور ان کا مسلک حضرت امام احمد بن حنبل کے ساتھ تھا۔تو اہل حدیث بزرگ تو کہتے ہیں کہ ہم آئمہ کی تقلید نہیں کرتے وہ غیر مقلد ہیں۔حضرت امام ابو حنیفہ، حضرت امام شافعی ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل"۔یہ