اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 162 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 162

162 مولانا روم فرمانے لگے کہ فرشتہ تو بہر حال نہیں ہے۔باقی ملاں انسان ہے یا نہیں؟ یہ بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے ایسی ایسی غلیظ داستانیں سننے کا موقع ملا کہ انسان تصور ہی نہیں کر سکتا۔چوں بخلوت روند آن کار دیگر ے کند تو یہ محض ان کے ذوق کی تسکین کے لئے اور مذاق اڑانے کے لئے چیز تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے ارشاد پر جو مقالہ بھجوایا گیا اسمیں بتایا گیا کہ حمدی بیگم کا خاندان اسلام کے بدترین دشمنوں میں سر فہرست تھا اس زمانہ میں، اور عیسائیوں کے ہاتھ پر کھیل رہا تھا۔عیسائیوں نے ہی دراصل سب سے پہلے اس پیشگوئی کو اچھالا ہے یاد رکھیں آپ۔اور وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ اسلام اور آنحضرت کا مذاق اڑاتے تھے اور ان کا خیال یہ تھا ہندوؤں کی طرح کہ پھوپھی زاد بہن یعنی زینب سے نکاح کرنا جائز ہی نہیں تھا!۔اندازہ کریں یہ تصور تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آئینہ کمالات اسلام میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ میں بیٹھا تھا اور رونے لگا اور ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ یہ ایسے بدقماش لوگ ہیں کہ میرے سامنے قرآن مجید کے اوپر انہوں نے پاؤں رکھا (نعوذ باللہ ) اور اس کے بعد پھر آنحضرت کی شان میں انتہا درجہ کی گستاخیاں کیں۔تو حضور علیہ السلام پر بڑی رقت طاری ہوگئی۔جناب الہی کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ اس خاندان پر خدا کا قہر اور عذاب نازل ہوگا چونکہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی شادی کے متعلق اعتراض کیا ہے۔اب ان کے بچاؤ کی ایک صورت ہے کہ وہ اپنی بیٹی محمد کے غلام کو دیں ورنہ ان کے بچاؤ کا کوئی سامان نہیں۔خدا کا قہران پر نازل ہونے والا ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 568-569) دراصل یہ Background تھا۔اور ساتھ ہی مسیح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے الہام یہ کیا گیا کہ اگر خدا کے اس حکم کے خلاف محمدی بیگم کے والد نے بغاوت کی تو تین سال میں وہ خدا کے قہر سے مرجائے گا۔اس کے بعد جس کے ہاں شادی ہوئی اگر وہ بھی اسی طرح انہی کے ڈگر پر چلتا رہا اور گستاخ رسول بنا رہا تو اڑھائی سال