اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 157
157 اعظم عبد القادر جیلانی نے یہ فرمایا اتشهد انی محمد رسول اللہ۔اس نے تردید کی۔آگے لکھتے ہیں ابو بکر شبلی نے ایک مرید سے کہا کہ اگر تم مرید ہونا چاہتے ہو تو یہ کلمہ پڑھو لا اله الا الــه شبلى رسول اللہ۔ایک اور صوفیاء کی کتابوں میں یہ دلچسپ بات لکھی ہوئی ہے کہ حضرت ابوبکر شبلی کے پاس جن کا شمار بڑے طبقہ اولیٰ کے کبار صوفیوں میں ہوتا ہے ایک مرید آیا۔اس نے کہا کہ میں آپ کی بیعت سے مشرف ہونا چاہتا ہوں۔کہنے لگے کہ کہو لا اله الا اللہ شبلی رسول اللہ کہنے لگا لا حول و لا قوۃ الا بالله۔اس پر حضرت شبلی نے بھی کہا لا حول و لا قوة الا باللہ شبلی نے پوچھا کہ تم نے اس پر لا حول کیوں پڑھا۔کہنے لگا۔میں نے لاحول اس لئے پڑھا کہ ایسا گستاخ ہے محمد رسول اللہ کا کہ وہ محمد رسول اللہ کی بجائے اپنا کلمہ پڑھانا چاہتا ہے۔کہنے لگا تم نے لا حول کیوں پڑھا ہے۔علامہ شبلی کہنے لگے ( یہ ان کی روایات ہیں) میں نے اس لئے لاحول پڑھا ہے کہ ایسے بے دین کے سامنے میں نے پُر اسرار معرفت کی بات کیوں بیان کر دی ہے۔(صفحہ 48 تا 50 مطبوعہ آفتاب برقی پریس امرتسر۔اگست 1930 ء ) اسی طرح ایک صوفی کی کتاب میرے پاس موجود ہے۔یہ غالباً کراچی کے ہیں۔اس میں ایک بزرگ کی طرف منسوب کر کے لکھا ہے اور ان کی کتابیں گنج بخش روڈ لاہور میں مکتبہ نبویہ میں بھی میں نے دیکھی ہیں۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے یہ کہا کہ میں نے کلمہ تو بہت دفعہ پڑھا ہے مگر مجھے اس سے شفا نہیں ہوتی۔کہنے لگے کہ نہیں اب وہ کلمہ جو ہے وہ Out of date ہو گیا ہے۔آپ اس کی بجائے یہ کلمہ پڑھا کرو۔وہ کلمہ کیا تھا۔لا الله من كان الا الله تن کان۔کہنے لگے اس مرید نے یہ کلمہ پڑھا۔پھر وہ صحت یاب ہو گیا۔حق نمائے ، صفحہ 123 طبع پنجم 1976 ء) تو احدی جو پڑھتے ہیں، جو کلمہ پڑھتے ہیں، وہ یقین کر کے پڑھتے ہیں کہ سوائے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے کوئی کلمہ نہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اور کسی کلمہ کو ہم ماننے کے لئے تیار نہیں خواہ وہ بھٹو کا بنایا ہوا ہو، یا مفتی محمود کا بنایا ہوا ہو، یا بنوری صاحب کا بنایا ہوا ہو، یا تقی عثمانی صاحب کا بنایا ہوا ہو۔کسی ماں نے ایسا بیٹا نہیں جنا جو محمد کے کلے کو منسوخ کرے اور انشاء اللہ دنیا پر ثابت کریں گے ، اسی کلمے سے غیر مسلموں کو مسلمان بنا کر دکھا ئیں گے۔کیونکہ یہ محمد