اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 155 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 155

155 بالکل غلط ہیں اور میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ یہ ایسا نظریہ ہے کہ صرف جماعت احمد یہ عشق رسول کے نظریہ کے ساتھ وابستہ ہے۔باقی آپ دیکھیں گے تو عجیب وغریب کلے ہیں۔حضرت ابن عباس کی روایت ہے اور وہ روایت دیو بندی عالم مولا نا اشرف علی صاحب تھانوی جنہیں کہ مسجد دسمجھا جاتا ہے اور علوم ظاہری اور باطنی کے ماہر بھی تسلیم کیا جا تا ہے۔یہ اس ترجمہ قرآن کے اوپر عبارت ہے جو دلی سے ان کا ترجمہ قرآن شائع کیا گیا ہے۔وہ مجدد ہیں دیو بندی دنیا میں۔انہوں نے حضرت عمر بن الخطاب کی یہ روایت نشر الطیب میں درج کی ہے کہ آنحضرت علی صلى الله نے ایک مرتبہ فرمایا کہ جب آدم سے سہوا کوئی بات ہوئی جو بعد میں معاف کی گئی تو حضرت آدم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عرض کیا کہ الہی مجھے محمد مصطفی احمد مجتبی کے طفیل بخش دے۔تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ تمہیں کیسے علم ہوا کہ سب سے بڑا میرا محبوب اور نبیوں کا سردار محمد رسول اللہ ہیں۔کہنے لگے کہ جب آپ نے مجھے پیدا کیا تو میں نے عرش پر دیکھا تو اس میں یہ کلمہ لکھا ہوا تھا لا اله الا الله محمد رسول اللہ تو میں نے اس سے یہ سمجھا ( حضرت آدم نے عرض کیا ) کہ آپ نے اپنے نام کے ساتھ اس وجود کو رکھا ہے جو آپ کی نگاہ میں تمام کائنات میں سب سے افضل ہے۔(نشر الطيب في ذكر النبي الحبيب ، صفحہ 13-14 ناشر تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور ) تو حدیث سے ثابت ہوا کہ کلمہ صرف ایک ہے باقی سب فرضی کلے ہیں۔اب آپ دیکھیں کہ کتنے کلے بنائے گئے ہیں۔میں جب 1985ء میں پہلی دفعہ انگلستان گیا تو غالباً بریڈ فورڈ میں ایک سوال و جواب کی مجلس تھی۔کہنے لگے کہ جی احمدی بچے خوامخواہ یہ کلمے کا بیج لگاتے ہیں۔اور دوسرے احمدی بھی لگاتے ہیں اور فیصل آباد کے کئی احمدی بچوں کو اسیر راہ مولیٰ بننا پڑا ہے۔کیا ضرورت ہے یہ بیج لگانے کی ؟ حضور کا ارشاد تھا کہ ہم نے یہ اعلان کرنا ہے کہ کچھ کر لوکلمہ طیبہ سے تعلق تم کبھی ہم سے توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔کیونکہ یہ ہماری روح ہے ، یہ ہماری جان ہے، احمدیت کا خلاصہ یہی ہے۔میں نے کہا جی اس کی کئی وجوہ ہیں۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ کلمہ طیبہ تھا جس سے آنحضرت کے زمانہ سے آج تک مسلمان ہوتے رہے ہیں۔بلکہ شیخ الاسلام ترکی سے پوچھا گیا۔ہنوور جرمنی کا ایک شخص تھا۔اس نے کہا کہ مسلمان ہونے کا طریقہ کیا ہے؟ کہنے لگا کہ بس ایک ہی طریقہ ہے کہ تم