اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 154
154 مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے فرمایا کہ صمدانی عدالت نے بھی (حضور صمدانی عدالت میں بھی تشریف لے گئے تھے ) تسلیم کیا کہ احمد نہیں محمد ہی لکھا ہے اور یہ محض رسم الخط کا ایک انداز ہے۔حضور نے یہ بھی واضح فرمایا کہ یہ جو رسم الخط افریقہ میں اختیار کیا گیا ہے، بہت سارے رسم الخط ہیں افریقی ، پرانے اگر آپ documents دیکھیں بلکہ قرآن مجید کے ابتدائی نسخوں کی فوٹو کاپی انسائیکلو پیڈیا میں موجود ہے۔پنجاب کے انسائیکلو پیڈیا میں بھی اس کے نمونے موجود ہیں۔وہ بالکل اور انداز ہے۔تو وہ اس طرز پر لکھا ہے کہ الف اور میم کو اوپر سے ملا دیا گیا ہے اور میم کے او پر شد ڈالی گئی ہے۔حضور نے فرمایا کہ شد احمد لفظ اگر ہوتا تو ڈالی ہی نہیں جاسکتی تھی۔اتنی موٹی بات ہے یہ ، لیکن مقصد تو دراصل اشتعال پیدا کرنا تھا۔اور فضا ایسی قائم کرنی تھی کہ جس میں سانحہ ربوہ کے متعلق منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچے۔حضور نے یہ بھی اس موقع پر فرمایا کہ دنیا میں صرف نائیجیریا میں ہی تو مسجد نہیں ہے۔جماعت احمدیہ نے ساری دنیا میں مسجدیں بنائی ہیں۔کسی بھی مسجد میں جا کر دیکھو گے لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کے سوا کوئی بھی کلمہ موجود نہیں ہے۔تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ساری دنیا میں تو کلمہ میں محمد لکھا جائے اور نائیجیریا کی کسی مسجد میں احمدی یہ لکھوا د ہیں۔یہ بات ہی نہیں بنتی۔یہ محض جھوٹا پراپیگنڈہ ہے۔اس سلسلے میں پہلی بات میں یہ عرض کرنی چاہتا ہوں۔اصل جواب جو حضور نے اپنی زبان مبارک سے دیا وہ تو میں عرض کر چکا ہوں۔حضور نے اتنا ہی جواب دیا تھا۔یہ میں وضاحت کی غرض سے کرنا چاہتا ہوں۔نئے نوجوانوں کے لئے ، ان کی معلومات میں اضافے کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حجۃ الاسلام صفحہ 12-13 طبع اول میں یہ کھلے لفظوں میں لکھا ہے کہ یہ عاجز اس لئے دنیا میں آیا ہے کہ دنیا کو یہ بتائے کہ دار النجات کا دروازہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہے۔آپ کی بعثت کا مقصد ہی لا اله الا الله محمد رسول الله کی آواز کو پہنچانا ہے۔پھر حضرت مصلح موعود نے لکھا ہے کہ احمدی تو سوائے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے کوئی اور کلمہ مانتے ہی نہیں ہیں۔یہ جو گلے لکھے گئے ہیں کہ لا الہ الا الله آدم صفی الله - لا اله الا الله موسى كليم الله لا اله الا الله عيسى روح الله -