اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 151
151 برداشت نہیں کریں گے۔دوسری بات یہ ہے اور پاکستان کے قانون میں یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ کسی شخص کو ایک جرم میں دوسرا ئیں نہیں مل سکتیں۔یہ پاکستان کا بھی اصول ہے اور اسلام کا بھی اصول ہے۔اسلام کا ایک اور اصول بھی ہے جو قرطبہ کے بہت بڑے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے عالم جن کی کتاب مشہور ہے آنحضور ﷺ کے فتاویٰ اور قضایا کے متعلق ، اس میں لکھا ہے کہ جن اعمال کو قرآن مجید نے اچھا قرار دیا ہے، اس پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔سزا ان باتوں میں دی جاسکتی ہے جومنکرات ہوں۔ضیاء کے رسوائے عالم آرڈینینس کے ساتھ انہی اصولوں کو تصور میں لانا چاہئے۔یہ لکھا ہے کہ ایک جرم کی اگر ایک دفعہ سزا دی جا چکی ہے تو اس جرم کی دوبارہ سزا نہیں دی جاسکتی۔1974ء کی اسمبلی کے لحاظ سے احمدیوں کو کتنی بڑی سزا دی گئی کہ تمہارا دامن محمد سے کوئی تعلق نہیں۔دائرہ اسلام سے تمہیں خارج کیا جاتا ہے۔اس سے بڑی کوئی گالی دنیا میں نہیں ہے۔ایک عاشق رسول کے تڑپانے کے لئے یہ کافی ہے۔جو ہر وقت محمد عربی کے لئے فدا ہورہا ہے کہ تمہارا شمار اسلام اور رسول پاک کے دشمنوں میں کیا جاتا ہے۔اس سے بڑی سزا د نیا تجویز ہی نہیں کرسکتی۔ایک احمدی تصور ہی نہیں کر سکتا کہ وہ عشق رسول کے سوا زندہ کیسے رہ سکتا ہے؟ مجھے یاد آیا جب میں 1990ء میں گوجرانوالہ کی ڈسٹرکٹ جیل میں تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ، حضرت مولانا سید عبد الحی شاہ صاحب اور ایک اور بزرگ تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا امنصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ کی طرف سے تشریف لائے اور یہ احمدیت کے بین الاقوامی نظام اخوت کا بہت بڑا شاہکار تھا۔ڈاکٹر صاحب ! آپ بھی تشریف لائے تھے۔تو جب مجھے اور میرے نو ، دس ساتھیوں کو جن میں مولا نا شبیر احمد صاحب ثاقب پروفیسر جامعہ احمدیہ بھی تھے۔(اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے )۔تو ہم لوگ پہلی رات جب جیل میں اکٹھے ہوئے۔ایک بہت بڑا وسیع کمرہ تھا۔ہم دس ایک طرف تھے۔باقی پورا کمرہ بھرا ہوا تھا اور بعد میں پتا چلا کہ نمازیں پڑھتے تھے وہ لوگ مگر امام وہ شخص تھا جو اغوا کے کیس میں چار دفعہ پہلے جیل میں آپکا تھا۔خیر نمازیں ہم نے ایک طرف ہو کر پڑھیں۔اس کے بعد بیٹھ گئے۔میں اس طرف بیٹھا ہوا تھا۔میں نے ہی نماز پڑھائی تو ایک نو جوان جو اہلحدیث تھا، میرے پاس آیا۔کہنے لگا مولا نا آپ کس جرم