اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 150 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 150

150 کے عاشقو! مرتد ہونے والے کی فکر نہ کرو بلکہ خوشیاں مناؤ، جشن مناؤ کہ ایک گندہ عضو تم سے کاٹ لیا گیا ہے۔جو شخص اگر ایک بھی تم میں سے مرتد ہو تو اس ایک مرتد کے نتیجے میں تم پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔بلکہ خدا کا وعدہ ہے فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ (المائدة:55) یہ محد رسول اللہ کے خدا کا وعدہ ہے کہ اگر ایک بھی مرتد ہو گیا تو خدا اس کے بدلے میں پوری قوم لے آئے گا۔اب اس کے مقابل پر آپ حیران ہوں گے کہ مودودی صاحب نے اپنی کتاب ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں میں یہ لکھا ہے کہ جب اسلام کی حکومت کے قیام کا ہم اعلان کریں گے تو یہ بھی اعلان کر دیں گے کہ ایک سال تک یا تو صحیح معنوں میں مسلمان ہو جاؤ اور یا اگر اسلام کے دائرہ میں شامل نہیں رہنا چاہتے تو علیحدہ ہو جاؤ۔اس کے بعد اگر کوئی شخص مسلمان کا لیبل لگائے گا اور پھر اعلان کرے گا تو اسلامی معاشرہ کی طرف سے ایک ہی سزا ہوگی کہ اس کا قتل عام کر دیا جائے۔نا شهر مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان اچھرہ لاہور بار اول جون 1951 صفحہ 80-81) اب آپ یہ سوچیں قرآن اور محمد عربی کا تو اسوہ وہ ہے۔تو یہ مودودی اسلام ہے، محمد رسول اللہ کا اسلام تو نہیں ہے جس طرح کہ سر اقبال شاعر مشرق نے یہ کہا ہے۔الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں ہرگز ملاں کی اذاں اور ہے غازی کی اذاں اور تو ملاؤں کا اسلام بالکل اور ہے۔آپ یہ دیکھیں کہ اگر یہ ایک لمحے کے لئے بھی فرض کر لیا جائے کہ اسلام کسی ایسے شخص کا وجود برداشت نہیں کرتا جو دیانتداری سے یہ سمجھتا ہو کہ مجھے اسلام میں نہیں رہنا چاہئے۔کسی نے اس کو صحیح حقائق ہی بیان نہیں کئے۔کوئی شخص کہتا ہے کہ میں نے جہاں تک مطالعہ کیا ہے یا ملاؤں نے جو کچھ ہمیں بتایا ہے میں اسلام پر راضی نہیں ہوں، میں کسی اور کی تلاش میں ہوں، تو ملا یہ کہتا ہے کہ اگر وہ تصور بھی کرے گا تو اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔اس کے معنے کیا ہوئے؟ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام یہ تو گوارا کرتا ہے کہ کوئی شخص دل میں نفرت کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں منافق بنا رہے اعلان نہ کرے کیونکہ جونہی اعلان کرے گا خاتمہ اس کا یقینی ہے۔حالانکہ قرآن ہی ہے جو یہ کہتا ہے کہ منافق کافروں سے بھی بدتر ہیں، ان کو سزا دی جائے گی۔معاذ اللہ یہ اتنا بڑا اتہام ہے اس اسلام پر جو یہ کہتے ہیں کہ کفر کو تو ہم برداشت کریں گے ، منافقت کو