اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 146
146 دائرہ ہے۔دوسرا دائرہ صرف ایک فرقے پر مشتمل ہے جسے آنحضرت نے الجماعة کہا ہے اور مَا اَنَا عَلَيْهِ وَ أَصْحَابِی قرار دیا ہے۔الجماعة کے معنی ہیں کہ جو ایک امام کی پیروی کرنے والی ہو۔اور مَا أَنَا عَلَيْهِ وَاَصْحَابِی یہ جو میں اس وقت عرض کر رہا ہوں میرے ذہن میں اس وقت بھی یہ تشریح تھی اور اب بھی یہ تشریح ہے جو واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ ما انا علیہ و اصحابی سے قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہر حدیث کا سر چشمہ دراصل قرآن مجید ہے۔یا الہی! تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا قرآن میں آیت موجود ہے کہ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي (یوسف: 109 ) کہ میں اور میرے اصحاب خدا کی دعوت علی البصیرت دیتے ہیں۔اس پر غور کریں یہ ما انا عليه و اصحابی ( سنن الترندی ابواب الایمان باب ماجاء في افتراق هذه الامة ) كامفهوم ہے۔خدا کو ماننے والے تو آج بھی بہت سارے ہیں۔آنحضرت کے زمانے میں اگر چہ بت پرستی بھی تھی مگر خدا کو ماننے والے بھی تھے۔آنحضرت اور آپ کے صحابہ دنیا میں دعوت الی اللہ کرتے تھے۔صرف یہ نہیں کہتے تھے کہ خدا ہے۔بلکہ علی وجہ البصیرت بتاتے تھے کہ خدا ہم سے ہمکلام ہوتا ہے اور ہم اس کے زندہ ہونے پر گواہ ہیں۔پہلی اذان میں آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے، جیسا کہ خواب کے ذریعے سے ایک صحابی کو بتایا گیا، یہ الفاظ رکھے قیامت تک۔کیا ہر مسلمان اذان میں یہ الفاظ نہیں کہتا ؟ الله اکبر، الله اکبر، اشهد ان لا اله الا الله ، اشهد ان محمد رسول الله حي على الصلواة حى على الفلاح، الله اكبر الله اكبر، لا اله الا الله یہ اذان ہے جو رسول پاک نے سکھائی ہے۔اس کے آغاز میں ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ موجود نہیں۔اب مجھے آپ بتائیں کہ شہادت کا لفظ قانون کی رو سے سنی سنائی بات پر چسپاں ہوسکتا ہے؟ کوئی عدالت سیشن کورٹ کی ہو ، ہائی کورٹ کی ہو ، سپریم کورٹ کی ہو، کسی کو گواہ نہیں قرار دیتی جو کہہ دے کہ میں نے بات سنی تھی۔جو Eye Witness ہو اس کو گواہ تسلیم کیا جاتا ہے۔تو سچا