اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 141
141 ہیں جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے 5 اگست 1974 ء سے 10 اگست 1974ء کے درمیان کئے گئے اسی ترتیب کے ساتھ کہ جس طرح قومی اسمبلی میں حضور پر سوالات کئے گئے وہ ہم دونوں دوست آپ کی خدمت میں پیش کر دیں گے تو حضور نے جو جوابات اس کے پیش فرمائے وہ ہم چاہیں گے کہ آپ کی زبان سے ناظرین تک پہنچ جائیں۔اس ضمن جب حضور سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کا تعارف کیا ہے اور آپ کا سوانحی خاکہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے کیا فرمایا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس موقع پر اپنی زبان مبارک سے بتایا کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ریکارڈ کے مطابق 16 نومبر 1909ء کو قادیان میں میری ولادت ہوئی۔17 اپریل 1922ء کو حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی۔جولائی 1929ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔1934ء میں گورنمنٹ کالج لا ہور سے بی۔اے کی ڈگری حاصل کی۔6 ستمبر 1934 ء آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان روانہ ہوا اور 1938ء میں واپس آیا۔مئی 1944ء سے تعلیم الاسلام کا لج قادیان کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔8 نومبر 1965ء کو خلیفہ اسی منتخب ہوا۔احمدیوں کی تعداد حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔حضور سے دوسرا سوال یہ پوچھا گیا کہ احمدیوں کی کیا تعداد ہے اس وقت؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے فرمایا:۔ایک کروڑ۔حافظ محمد نصر اللہ صاحب اس پر کوئی جرح بھی ہوئی۔تعداد کے حوالہ سے علماء نے کی؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب: نہیں نہیں علماء تو کر ہی نہیں سکتے تھے۔اٹارنی جنرل صاحب نے بھی اتنا ہی سوال کیا تھا اور جواب بھی حضور نے اتنا ہی دیا تھا۔حضور کا اصل مقام ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔حضور سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ کا اصل مقام کیا ہے۔