اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 130
130 مسجد کا نشاں کوئی مٹا دے تو یہ خوش ہیں پنجاب کے احرار اسلام کے غذار (اس لئے اذان کو گوارا نہیں کرتے ) مردان مجاہد سے جو اس طرح کئے ہیں اللہ کے رستے سے جو اس طرح ہے ہیں کی فوجوں کے مقابل جو ڈٹے ہیں پھر کیوں نہ یہ کمبخت ہوں رسوا سر بازار اسلام پنجاب کے احرار اسلام کے غدار یہ ایک دوسری نظم ” سیاست اخبار 16 اگست 1935 ء صفحہ 13 کی ہے۔اس کو اگر غزل کہا جائے تو اس کا مطلع ہے۔ع احرار کہاں اور کہاں خدمت اسلام“ احرار کہاں اور کہاں خدمت اسلام چندے کی اسے فکر لگی ہے سحر و شام یہ شیخ مولانا، سید میاں جی سب پیٹ کے بندے ہیں انہیں چندے سے ہے کام جمع ہوں جہاں چند غلامان محمد نازل ہوئے چندے کے لئے صورت الہام جب وقت مصیبت پڑا قوم پر آ کر اور چھا گئی ہر سمت قیامت کی سیاہ شام (1935ء کے اس خطرناک قیامت خیز واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔شہید گنج کی شکل میں ) ملت یا غلامان محمد خادم خاموش کھڑے تکتے رہے صورت اصنام