اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 127
127 اور وہ لکھنے والے مولوی تقی عثمانی صاحب تھے۔جو غالباً شریعت کورٹ کے جسٹس بھی رہے ہیں اور دوسرے سرحد کے مشہور دیو بندی عالم مولوی سمیع الحق صاحب تھے اور اس کا عنوان تھا۔۔۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اس کا نام ملت اسلامیہ کا موقف رکھا گیا تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہاں میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا کاروبار کرنے والوں کا جو محضر نامہ ہے ، اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔لیکن ذکر سے پہلے دو باتیں مجھے ضرور عرض کرنی چاہئیں۔ایک تو یہ جو محضر نامہ ہے اس کا نام ” ملت اسلامیہ کا موقف رکھا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ تقی عثمانی صاحب اور مولوی سمیع الحق صاحب کو کس ملت اسلامیہ نے اپنا وکیل اور سفیر مقرر کیا۔اس سے بڑھ کر کوئی دجل و فریب نہیں ہوسکتا کہ دو آدمی گھر بیٹھ کر ساری دنیا کے لوگوں کی طرف سے سفیر بن جائیں اور وکیل بن جائیں۔یہ دونوں حضرات دیو بندی ہیں۔ان حضرات نے جو لکھا ہے خودان کے متعلق مسلمانوں نے کیا لکھا ہے۔آیا کسی مسلمان فرقے نے بطور نمائندہ کے ان کو چنا ہے۔یہ ایک ایسی بات ہے کہ بہت نمایاں طور پر جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔سفیر تو وہ ہوتا ہے جس پر اعتماد ہو۔یہ دونوں دیو بندی حضرات جنہوں نے گھر بیٹھے ہوئے اپنے تئیں خود ہی اتنی بڑی عیاری اور مکاری کی کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا اپنے تئیں سفیر قرار دے دیا۔سفیر تو سعودی عرب والے بھی نہیں ، ان کو بھی کوئی مانتا نہیں ہے سفیر۔ان کے مذہب کو نجدی مذہب کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نجد سے شیطان کی قرن نکلنے والی تھی ، رسول اللہ کا ارشاد ہے اور وہ نجدی فرقہ ہے۔یہی سعودی عرب کی حکومت ہے، تو دو مولویوں کی سفارت تو الگ رہی سعودی عرب کو کوئی اپنا سفیر نہیں سمجھتا۔مسلمان ان کو کیا سمجھتے ہیں؟ یہ فیصلے 1974ء سے پہلے ہو چکے ہیں۔اور مسلمان وہ فیصلہ کر چکے ہیں !! وہ فیصلہ انہوں نے اس وقت کیا 1935ء میں، پاکستان کے قیام سے بھی بارہ سال پہلے جس وقت کہ ان لوگوں نے ووٹ لینے کی خاطر سکھوں سے سودا کیا۔ان کے سامنے ،ان کے دفتر کے ساتھ ہی مسجد شہید گنج کو سکھوں نے شہید کر دیا مگر انہوں نے ووٹ لینے کی خاطر محض تماشائی ہونا قبول کیا۔مسلمانوں نے اپنی جانیں دیں اس موقع پر۔جہاں جہاں بھی مسلمان تھے انہوں نے شدید احتجاج کیا اور ایجی ٹیشن کرتے ہوئے بالا تفاق اعلان کیا کہ احرار کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔یہ