اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 110
110 آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ وزاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعا ئیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں۔کوئی زمین پر مر نہیں سکتا جب تک آسمان پر نہ مارا جائے۔میری روح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے۔کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میرا خدا۔مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔۔۔۔اے خدا تو اس امت پر رحم کر۔آمین (روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471-473) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اس کے بعد جو اختتام تھا وہ بھی سنا دیجئے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔وہ عنوان تھا دو دعا حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔اس میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ بھی آپ بیان فرمایا کرتے ہیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔بات یہ ہوئی کہ حضرت خلیفہ اُسیح الثالث" جب اس پر شوکت بیان کو پڑھ چکے۔ایک وجد کی کیفیت اس وقت پورے ایوان پر تھی یعنی ایوان سے مراد خصوصی کمیٹی کے ممبران پر اور ان کی شکلوں سے، ان کے خدوخال سے یہ بات بالکل عیاں ہو رہی تھی۔حضور نے اس کے بعد عنوان پڑھا۔” دعا۔اب جو ملاں بیٹھے ہوئے تھے اپوزیشن کے بنچوں پر، کہنے لگے نہیں ! نہیں !! مرزا صاحب دعا ہم خود کریں گے۔حضور نے فرمایا کہ یہ عنوان ہے اصل عبارت کا جو میں اب پڑھنے لگا ہوں۔اس کے بعد حضور نے یہ عبارت پڑھی۔اب میں وہ سناتا ہوں۔یہ اختتام ہے۔وو " دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے معزز ارکان اسمبلی کو ایسا