اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 104
104 موجود ہے خود تکلیفیں برداشت کیں۔صحابہ کے متعلق یہاں تک لکھا ہے کہ حضور گلی میں تشریف لے جارہے تھے تو آل یاسر میں سے بعض بزرگوں کو تکلیفیں دی جا رہی تھیں۔مارا پیٹا جارہا تھا۔حضور علی رقت سے بھر گئے اور فرمایا ” اِصْبِرُوا آلَ يَاسر (المعجم الكبير للطبراني باب السين۔سمية بنت خباط مولاة ابي حذيفة بن المغيرة ( اے آل یا سر صبر سے کام لو۔اللہ کا یہی ارشاد ہے۔حضرت سمیہ سب سے پہلے شہید ہوئیں۔اور ابو جہل نے نیزہ ان کی شرمگاہ میں چھو کر ان کو شہید کیا۔مگر پھر بھی حضور نے فرمایا کہ صبر کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت یہاں موجود ہے کہ تیرہ سال تک حضور نے صبر کیا پھر آپ نے ہجرت کی۔ہجرت کے باوجود ان ظالموں نے تعاقب کیا اور پھر حملہ آور ہو گئے۔اس موقع پر خدا نے اذن دیا۔یہ ہے جہاد کی حقیقت۔اور یہی حقیقت ہے اور آگے پھر اس میں بتایا ہے کہ آئمہ دین بھی جہاد بالسیف کے متعلق وہی نظریہ رکھتے ہیں جو حضرت بانی جماعت احمدیہ نے پیش کیا تھا۔چنانچہ حضرت سید احمد بریلوی سے جب پوچھا گیا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد جائز ہے یا نہیں تو انہوں نے فرمایا:۔سرکار انگریزی گومنکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے۔“ یہ کون کہہ رہے ہیں ! حضرت سید احمد صاحب بریلوی رحمۃ اللہ علیہ جو تیرھویں صدی کے مجدد تھے اور جن کا مرقد مبارک بالاکوٹ میں ہے۔ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے اور ترویج کرتے ہیں۔وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزاد ینے کو تیار ہیں۔ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلاف اصول مذہب طرفین کا خون بلا سبب گرا دیں۔“ سوانح احمدی مرتبہ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری صفحہ 71) حضرت شاہ اسماعیل صاحب شہید کا فتویٰ یہ ہے کہ:۔گورنمنٹ انگلشیہ سے ہمارا کوئی جہاد نہیں اور ہم براہ راست سکھوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔“