اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 103 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 103

103 یہ پانچ سوسال پہلے گذرنے والے ایک بلند پایہ عالم دین اور مجد داہل سنت کے معنی ہیں فرماتے ہیں:۔" إِذَا الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٍّ بَعْدَهُ يَنْسِخُ مِلَّتَهُ وَ لَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ فرمایا خاتم النبیین کے معنی صرف یہ ہیں کہ اب آنحضرت ﷺ کے بعد ایسا نبی نہیں آ سکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔“ یہ شرط ہے دراصل اور یہ معنی ہے خاتم النبین کے۔(محضر نامہ میں ) اس کے بعد ہے: " انکار جہاد کے الزام کی حقیقت۔“ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں سے پہلے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ قیامت تک کے لئے ہے۔قرآن میں جہاد کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔قرآن کو جہاد کبیر قرار دیا گیا ہے۔حدیث میں جہاد بالنفس کو بھی جہاد کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔اور جب کوئی دشمن طاقت کے زور پر اسلامی حکومت کے او پر حملہ آور ہو جائے تو پھر تلوار کا جواب یعنی طاقت کا جواب طاقت سے دینا دفاع کے طور پر، یہ بھی جہاد ہے۔مگر باقی جہاد ہر وقت جاری ہیں۔قرآن کا جہاد نفس کا جہاد، قرآن کی رو سے جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَ انْفُسِكُمُ (التوبة: 41) جہاد بالنفس بھی ہے، جہاد بالاموال بھی ہے۔اس کے لئے کوئی وقت جو ہے مخصوص نہیں مگر جہاں تک جہاد بالسیف کا تعلق ہے قرآن خود کہتا ہے کہ ان لوگوں سے لڑائی کرو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں قَاتِلُوا کا لفظ ہے اور کہا ہے ” الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ “ (البقرة: 191 ) جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔دفاع کے طور پر تمہارا فرض ہے۔چنانچہ پہلی آیت جو کہ جہاد کے فرض ہونے کے سلسلہ میں نازل ہوئی وہ بڑی واضح ہے۔أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ( الج: 40) فرمایا ان لوگوں کو جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔کن لوگوں کو؟ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا جن پر ظلم کیا گیا ہے اور اتنا بڑا ظلم کہ انہیں اپنے وطن سے بھی نکلنا پڑا ہے اور ہجرت کر کے ایک دوسرے مقام پر آنا پڑا ہے۔فرمایا ہم ان کو اجازت دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آنحضور نے جب تک کہ حضور مکہ میں رہے ، یہی فرمایا۔ایک حدیث میں