اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 102
102 مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ سارا محضر نامہ کو ہی میں پیش کر رہا ہوں۔اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہہ رہا۔جو بات اگر کسی جگہ کہنے کی ضرورت ہو تو وہ میں ساتھ بتا دیتا ہوں وضاحت کرتے ہوئے۔اور پھر قرآن مجید کی آیات کے بعد پھر احادیث کی رو سے بتایا گیا ہے مثلاً خود رسول پاک ﷺ کی حدیث ہے لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا (سنن ابن ماجه كتاب الجنائز باب ما جاء في الصلواة على ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم و ذکر وفاته) آپ کے فرزند حضرت ابراہیم فوت ہوئے تو اس موقع پر حضور نے فرمایا ، ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ اگر میرا یہ بیٹا زندہ رہتا تو وہ یقینی طور پر سچا نبی ہوتا۔ان کی وفات سے پہلے خاتم النبین کی آیت نازل ہو چکی تھی۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔5 ہجری میں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب: 5 ہجری میں اور حضرت ابراہیم کا وصال جو ہوا ہے وہ دو تین سال کے بعد ہوا ہے۔اور اب اگر اس کے معنے ختم کرنے کے ہوتے حالانکہ قرآن میں خاتم کا لفظ ہے خاتم کا لفظ نہیں ہے۔عربی میں عالم کے اور معنی ہیں اور عالم کے بالکل اور معنی ہیں۔خاتم کے معنی مہر کے ہوتے ہیں اور مہر بادشاہ کو ملتی ہے جو سب سے افضل ہوتا ہے اور وہ تصدیق بھی کرنے کے لئے ہوتی ہے۔یہ میں وضاحت کے لئے اتنا عرض کروں، حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے ارشاد کے مطابق ایک سوال و جواب کی مجلس تھی تو وہاں کوئٹہ کے ایک غالبا وکیل تھے اور ایک حج تھے تو یہ مسئلہ شروع ہوا۔میں نے کہا آپ کے لئے تو بڑی واضح چیز ہے مثلاً عدالت کی طرف سے یہ لکھا ہوتا ہے کہ مہر عدالت سے جاری ہوا۔مہر عدالت سے کوئی بند ہوا استعمال نہیں کرتا۔تو مہر جاری کرنے کے لئے ہوتی ہے۔فیضان وہ جاری کرتا ہے جو سب سے افضل ہوتا ہے اس لئے یہ بالکل واضح بات ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ آیت خاتم النبین نازل ہو چکی ہے اس واسطے اگر زندہ بھی رہتا تب بھی نبی نہ بن سکتا تھا۔اس کے معنے امام اہلسنت نے یہ لکھے۔یہ موضوعات کبیر علامہ علی القاری صفحہ 59 ناشر مطبع مجتبائی دہلی میں موجود ہے۔فرماتے ہیں:۔فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ تَعَالَى خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذَا الْمَعْنى “ 66