اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 93
ممنون ہوں گا۔93 مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔مسلمان کی تعریف۔چونکہ یہ بنیادی چیز ہے۔مسلمان کی تعریف کے متعلق رسول اکرمﷺ کے ارشاد کے مطابق جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ جو اپنے تئیں مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے۔حدیث میں یہ بھی ہے: "مَنْ صَلَّى صَلَوتَنَا وَ اسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَ أَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِى لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَ ذِمَّةُ رَسُولِهِ “ (صحیح بخارى كتاب الصلواة باب فضل استقبال القبلة) کہ جو ہمارا ذبیحہ کھالے، ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے، ہماری طرح نمازیں پڑھے، حج کرے۔فرمایا یہ خدا کے دفتر میں مسلمان ہے اور Constitution میں اس کو مسلمان تسلیم کیا جانا چاہئے اور آگے فرمایا: فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ (صحیح بخارى كتاب الصلواة باب فضل استقبال القبلة) یہ خدا کی گارنٹی ( Gaurantee) ہے کہ ایسا شخص مسلمان ہے اس واسطے تم خدا کے اس ارشاد کے خلاف غداری نہ کرو اور بغاوت کی راہ رسول اللہ کے خلاف اختیار نہ کرو۔اس پر مودودی صاحب نے لکھا تھا کہ اس حدیث سے ثابت ہے کہ جو لوگ کثرت کو اپنے لئے باعث نجات سمجھتے ہیں وہ جھوٹے ہیں کیونکہ رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق فرقہ ناجیہ جو ہوگا وہ اقلیت میں ہو گا۔اکثریت میں نہیں ہوگا۔( ترجمان القرآن جنوری فروری 1945 ، صفحہ 175-176 ) اب جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں دیکھیں تین اصطلاحیں ہیں۔ایک ہے غیر مسلم ،ایک ہے مسلم، تیسری اصطلاح ہے غیر احمدی۔حضور نے اسمبلی کے سوالوں کے جواب میں بھی فرمایا۔اور اس میں اشارہ موجود ہے۔جماعت کے لٹریچر میں غیر مسلم صرف اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے تئیں مسلمان نہیں سمجھتا۔جو شخص اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے خواہ ہمیں مرتد ہی قرار دے، ہم اس کو قانونی طور پر لازما مسلمان سمجھتے ہیں، ان کے لئے ہم نے کبھی غیر مسلم کا لفظ استعمال نہیں کیا۔