اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 94
94 آج بھی جو لوگ ہمیں غیر مسلم یا کافر، مرتد ، واجب القتل قرار دیں، رسول اللہ کی حدیث کے مطابق قانون اور Constitution کے لحاظ سے ہم ان کو مسلمان تسلیم کر لیں گے اور یہ حکومت کا فرض ہے کہ ان کو وہ تمام سہولتیں اور بنیادی حقوق عطا کرے جو ایک مسلمان کے قانون کے لحاظ سے ہونے چاہئیں۔اس سلسلے میں حضور نے جو وہاں مؤقف پیش کیا۔اور اس میں بھی جھلک ہے، اس کے پیچھے ایک فلسفہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں جو حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بیان فرمایا تھا اور اسی سے ہی یہ ساری چیز دراصل منعکس ہوئی اور بہت ہی لطیف ہے۔دیکھیں ! آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں فرمایا۔ان میں سے 72 جہنمی ہوں گے اور ایک مسلمان ہو گا۔اب اس کو آپ غور سے دیکھیں جس طرح کہ وکیل اپنا موقف پیش کرتا ہے تو قانون پر بنیا د رکھتا ہے۔ایک لفظ کے نتیجے میں بعض اوقات فیصلے بدل جاتے ہیں، پھانسی پر چڑھنے والا آدمی بری ہو جاتا ہے۔تو محمد عربی ﷺ کے الفاظ معمولی نہیں ہیں۔ہر لفظ قانون ہے۔اس کو پڑھیں۔آپ ایک طرف فرماتے ہیں کہ تہتر فرقے میری امت کے ہیں سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً (مشكوة المصابيح كتاب الايمان باب الاعتصام بالكتاب والسنة) یہ تہتر فرقے میری امت میں شامل ہیں اور پھر فرماتے ہیں مگر ایک فرقہ ان میں سے مسلمان ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ ایک زاویہ نگاہ سے آنحضرت کا فیصلہ ہے کہ سارے فرقے جو اپنے تئیں مسلمان کہتے ہیں جن میں وہ بہتر (72) بھی شامل ہیں جو جہنمی ہیں وہ محمد رسول اللہ کی امت میں شامل ہیں مگر دوسرا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ اس بڑے سرکل کے اندر ایک چھوٹا سا سرکل ہے جو ایک ہے چھوٹا اور باقی 72 اس سے الگ ہیں۔اب یہ کتنا لطیف اشارہ ہے۔کوئی کھربوں روپے اس پر لگانے کی کیا ضرورت تھی۔محمد رسول اللہ نے فیصلے کئے ہیں۔یہ سب سے بڑا ظلم وستم ہوا ہے کہ ان نام نہاد فیصلوں نے دنیا میں یہ بات اٹھائی کہ اسلام ایسا ناقص مذہب ہے کہ اس میں مسلم کی تعریف ہی موجود نہیں ہے اور چودہ سوسال کے بعد کمیونسٹ حکومت کو شرف حاصل ہوا کہ اس ناقص چیز کو شامل کریں کہ اصل تعریف تو یہ تھی۔آنحضرت کے زمانہ میں لوگوں کو پتا چلا نہ سارے خلفاء کو پتہ چلا۔آئمہ اور متکلمین اور نہ ہی مفسرین کو اور اگر انکشاف ہوا۔تو بھٹو صاحب پر یہ انکشاف ہوا ہے یا ان کی پارٹی پر انکشاف ہوا ہے تو