اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 91
91 اور ایک کو الگ کر دیں گے اور وہی مسلمان فرقہ ہوگا۔چنانچہ آگے لکھا ہے کہ اس کے متعلق سعودی عرب کے مذہبی پیشوا جن کو ہم بھی مجدد سمجھتے ہیں۔انہوں نے اپنی کتاب مختصر سیرۃ الرسول“ میں لکھا ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔آپ کی مراد حضرت محمد بن عبد الوہاب سے ہے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضرت مولانا محمد بن عبد الوہاب صاحب جو اپنی صدی کے مجدد تھے۔بہت ہی عظیم الشان ، تو حید کے علمبردار اور سنت کے ایسے عظیم الشان وہ مجاہد تھے کہ انہوں نے انتہا درجہ کی وہ بت پرستی جو اس وقت حجاز میں ہورہی تھی اس کا نام ونشان تک مٹادیا۔بعد میں مبالغے بھی ہوئے۔انہوں نے لکھا ہے یہ حدیث دے کر کہ وو " فهذه المسئلة اجل المسائل فمن فهمها فهو الفقيه فمن عمل بها فهو المسلم۔“ مختصر سيرة الرسول ع ، صفحہ 13-14 مطبوعہ قاهره ) ، فرمایا یہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد را ہنما اصول ہے کہ آخری زمانے میں عالم اسلام جب تہتر (73) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گا تو ان فرقوں میں سے صرف ایک فرقہ مسلمان ہوگا۔اور بہتر (72) فرقے ناری ہوں گے۔کہتے ہیں کہ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے آج جو اس کو جانتا ہے وہ فقیہہ کہلانے کے مستحق ہے۔کوئی مفتی نہیں کہلا سکتا جب تک کہ یہ ایمان نہ رکھے کہ تہتر میں سے ایک مسلمان ہے۔و من عمل بها فهو مسلم اور جو اس کے مطابق عمل کرتا ہے وہی مسلمان ہے۔وہ مسلمان ہی نہیں ہے جو کہ بہتر کو مسلمان کہے اور ایک کو کافر کہے۔مسلمان وہ ہے جو آنحضرت کے ارشاد کے مطابق بہتر (72) کو Non Muslim اور غیر مسلم کہے اور ایک کو مسلمان کہے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس حدیث پر مجدد اہل سنت ( ملاعلی القاری) نے ” مرقاۃ شرح مشکوۃ کی پہلی جلد میں یہ جو تہتر (73) فرقے ہیں، ان کا تجزیہ فرمایا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک الہامی اور القائی صورت تھی جو وحی ربانی کی شکل میں حضرت علامہ ملا علی قاری (اصل میں ملا کا لفظ