اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 453
453 ہوں۔استقبال محمدمصطفی ﷺ جیسے خاتم النبین کا بھی پتھروں سے کیا گیا، گالیوں سے کیا گیا، دل آزاری سے کیا گیا قتل کے منصوبوں سے کیا گیا۔تو لکھتے ہیں کہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے بلکہ مثل شیطان شک و شبہ کر کے اپنے قیاسات باطلہ رکیکہ سے اس کی حجیت کا انکار کریں گے بلکہ اس کے مقابلہ کو اکثر لوگ عداوت و دشمنی پر آمادہ ہو جائیں گے اور ہر طرح سے اس کو اور اس کے معتقدین کو اذیت پہنچانے کی کوشش کریں گے۔علماء اس کے قتل کا فتوی دیں گے اور بعض اہل دول اس کے قتل کے لئے فوجیں بھیجیں گے اور یہ تماما نام کے مسلمان ہی ہوں گے۔“ دیو بندیوں نے جو محضر نامہ پیش کیا وہ محض اقلیت کا نہیں تھا بلکہ مرتد اقلیت کا تھا اور مرتد اقلیت کے معنی کئے ”واجب القتل“۔پہلے سے خدا نے محمد رسول اللہ علیہ کے عشاق کو بتا دیا کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو علماء قتل کے فتوے دیں گے۔اور یہی قتل کا فتویٰ آپ محضر نامہ میں دیکھ سکتے ہیں، جس میں کہ مسیح موعود کی جماعت کو مرتد قرار دیا گیا ہے اور عملاً مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ اقلیت نہیں بلکہ مرتد اقلیت قرار دیا جائے۔یعنی دنیا میں پہلی دفعہ یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے اور ملاں نے استعمال کی ہے صرف قتل و غارت کے لئے۔تو حق یہ ہے کہ خود یہ پوری ایجی ٹیشن، جماعت کی مخالفت سے لے کر آج تک اور بالخصوص یہ 1974ء کا دور اور یہ محضر نامہ، پھر اسمبلی کی کارروائی یہ ء سے سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کا اعلان عام کر رہے ہیں۔نوری بشر تاریخ احمدیت کا چوتھا حصہ میں لکھ رہا تھا تو بھیرہ جاتے ہوئے میں ملکوال سے بذریعہ ٹرین جب جارہا تھا تو اسی ڈبے میں بریلوی اور دیو بندی دوست بیٹھے ہوئے تھے۔عالم تھے دونوں۔بڑی لمبی لمبی داڑھی تھی اور بزرگ آدمی تھے۔بہت لمبی عمر دونوں کی ہوگی اور میری حیثیت تو یہ غالباً 1960ء کی بات ہے اگر تو 1927ء میں جو شخص پیدا ہوا ہے تو کتنی عمر ہوگی اس کی؟) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: تینتیس سال مولانا دوست محمد شاہد صاحب : تینتیس سال بس کم و بیش یہی میری عمر ہو گی اُس وقت۔