اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 414 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 414

414 پر پھیلا کر کل 52 گھنٹے دس منٹ مجھے کراس ایگزیمین ( Cross Examine) کیا۔باون گھنٹے دس منٹ کفیناک المستهزئین کا مجھے یہ نظارہ نظر آتا تھا۔جس طرح فرشتہ میرے پاس کھڑا ہے۔جہاں مجھے جواب نہیں آتا تھا وہاں مجھے جواب سکھایا جاتا تھا۔بعض دفعہ یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ جواب اس طرح دینا ہے۔مثلاً ایک رات شام کو مجھے یہ کہا گیا کہ اس کا جواب نہیں دینا اس وقت کل صبح دینا ہے۔میرے پیچھے پڑ گئے۔میں نے کہا میں نے دینا ہی نہیں۔بہت پیچھے پڑے۔میں نے کہا آپ یہ لکھ لیں، میں نہیں جواب دینا چاہتا۔میں نے اس وقت جواب نہیں دینا۔تو مجھے یہی کہا گیا تھا کہ کل صبح دینا جواب کیونکہ کل صبح دینے میں ان کے لئے کافی خفت کا سامان پیدا ہونا تھا۔یعنی اس تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کی۔کوئی معمولی بات نہیں ہے۔باون گھنٹے دس منٹ ہر ہر سوال کا جواب مجھے وصول ہوایا سوال سکھایا جاتا تھا یا یہ کہ اس کا جواب کس طرح دینا ہے۔یہ بتایا جا تا تھا ( سبحان اللہ )۔ایک دن یہ سوال کیا۔ایک پیرا یہاں سے شروع ہوا۔یہ ایک صفحہ سمجھیں اس کو۔یعنی بیچ میں لکیر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ہے۔یہاں سے شروع ہوا۔یہاں جا کے ختم ہوا۔یہاں سے ایک فقرہ اٹھایا سوال کے لئے۔ایک فقرہ ایک پیرے سے اٹھا کے کہنے لگے، یہ تو جی بڑے قابل اعتراض فقرے لکھ گئے ہیں مرزا غلام احمد صاحب۔تو بڑا فساد پیدا ہوتا ہے۔اس قسم کی باتیں شروع کر دیں۔مجھے کہا گیا ابھی جواب دو۔مجھے جواب کوئی نہیں آتا تھا۔یعنی یہ حقیقت ہے بغیر ذرا مبالغہ کے کہ میں بالکل اندھیرے میں تھا۔میں نے کہا کہ کتاب بھیج دیں۔میرے پاس کتاب نہیں ہے۔مجھے کتاب بھیج دیں۔ابھی میں جواب دے دیتا ہوں۔بیٹی بختیار کہنے لگے ، اچھا کل پھر آپ دے دیں، کوئی ضروری نہیں ہے ابھی دیں۔میں نے کہا میں کہہ رہا ہوں۔میں نے ابھی دینا ہے جواب تو آپ مجھے کتاب بھیج دیں۔دو تین