اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 412 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 412

412 بیٹھیں اور آپ نے یہ شروع کرنا ہے۔ہمیں حضور نے یہ ہدایت فرمائی۔جب وہاں پہنچے تو نقشہ ہی بگڑا ہوا تھا۔حضور نے جاتے ہی فرمایا کہ آپ نے جس طرح مجھ سے حلف لیا ہے۔اسی طرح قانونی حلف مولانا ابوالعطاء صاحب سے بھی لیں۔بجائے اس رولنگ پر قائم رہنے کے، چیئر مین صاحب نے بالا دستی اور چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کل آپ کو یہ اجازت دی تھی لیکن کمیٹی کے تمام افراد یہ کہتے ہیں کہ آپ امام جماعت احمدیہ کی حیثیت سے خود موجود ہیں اور اپنا دفاع بڑے شاندار طریقے پر آپ کر سکتے ہیں تو ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ڈیلی گیشن کے کسی ممبر کی بجائے آپ خود اپنی زبان سے اس کا جواب دیں۔بڑے اچھے طریقے پر انہوں نے یہ بات کہی۔ان کا اب یہ خیال تھا کہ حضور اس پر دوبارہ یہ جرح کریں گے کہ یہ تو عجیب بات ہے اور انتہائی قسم کی یہ خلاف قانون بات ہے۔لیکن اس پر حضور نے قطعاً کوئی بات نہیں کی بلکہ جس بشاشت سے حضور تشریف لائے تھے ، اسی طرح مسکراتے ہوئے ، مائیک جو حضور نے اپنے دست مبارک سے مولانا ابوالعطاء صاحب کے سامنے رکھا تھا وہ خود اپنے سامنے کر لیا اور کہا فرمائیے۔اس پر جو سوالات کئے گئے محترم ظفر انصاری صاحب کی طرف سے جیسا کہ پہلے بات آچکی ہے، تحریف قرآن کے متعلق تھا۔ام المؤمنین کے متعلق تھا۔تیسرا سوال ظلی حج کے متعلق تھا۔انہوں نے کہا دیکھیں جی! آپ کا قرآن علیحدہ، آپ کے حج علیحدہ ہیں۔جس وقت یہ بات حضور نے سنی تو حضور نے مجھے نہ علی بن موفق کا حوالہ دیانہ تذکرۃ الاولیاء کی بات کی، مجھے بس اتنا فرمایا کہ وہ حوالہ دیں کسی کتاب کا ذکر نہیں کسی صوفی کا ذکر نہیں اور عجیب خدا کا تصرف یہ ہے کہ جلدی میں چلتے ہوئے ٹرنک میں سب سے اوپر وہی تذکرۃ الاولیاء “ رکھا گیا مجھ سے۔اور اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ باقی دو ٹرنک ذرا دور ر کھے تھے اور یہ رنک بالکل میرے سامنے رکھا تھا۔ایک لمحہ کے اندراندر میں نے وہ جب ٹرنک کھولا تو وہ کتاب سامنے تھی اور جب میں نے اس کو کھولا تو وہ علی بن موفق کا واقعہ تھا۔( تذکرۃ الاولیاء اردو تر جمه صفحه 157 از علامہ عبدالرحمن شوق ناشر ملک سراج الدین اینڈ سنز لاہور ) یہ کتنا حیرت انگیز تصرف ہے اور اس کا ثبوت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو منصب خلافت عطا فرماتا ہے تو آسمان کے فرشتے اس کی طاقت بن کر اس کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور پھر جو بھی اس کے خادموں میں شامل ہو جاتا ہے، تو جو کام خدا کے مامور کی طرف سے اس خادم کے سپرد کیا جاتا ہے عرش کے فرشتے اس کی تائید کرتے ہیں۔