اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 396
396 قابو میں رکھیں۔حالات پر بلا وجہ تبصرہ نہ کریں۔نمبر ۳۔اشتعال انگیزی سے ہرگز مشتعل نہ ہوں۔نمبر ۴۔دعاؤں اور صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور رضا کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ خدا تعالیٰ کا فضل آپ کے شامل حال ہوگا۔نمبر ۵۔طلباء سکول اور کالج جائیں۔نمبر 4۔ملازمین اپنی ملازمت پر جائیں۔نمبرے۔دوکاندارا اپنی دوکا نہیں کھولیں۔(کتاب نشانِ آسمانی جس کا میں نے پہلے متن پڑھا ہے۔) کتاب نشان آسمانی صفحہ 39، 40 کو نماز مغرب کے بعد پڑھ کر احباب جماعت کو سنائیں۔یہ عاجز خدا تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرسکتا۔۔۔اب دیکھئے فتح کس کی ہوتی ہے۔“ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔جزاکم اللہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا تبصرہ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔اس سلسلہ میں یہ بھی میں ضمناً ذکر کر دوں کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بھی ایک بیان دیا تھا اور وہ بیان اخباروں میں بھی چھپا۔” نوائے وقت“ 19 ستمبر 1974ء میں شائع ہوا۔وو اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں کسی کی تائید کی ضرورت نہیں۔“ شاہد کی اپنی دلی کیفیت حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔جب یہ فیصلہ سنایا گیا تو اس وقت آپ کے دل کی کیا کیفیت تھی؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔عرض یہ ہے کہ اس وقت ایک ہی خیال آرہا تھا کہ یہ الہی تقدیر تھی کہ تہتر فرقوں میں سے ایک فرقے کی نشاندہی حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے دور میں مقدر تھی اور وہ بھی اسمبلی کے ہاتھوں سے اور مولویوں کی مہر کے ساتھ۔