اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 378
378 معاملات میں نہ جائیدادوں میں۔کہنے لگے جی باقی چیزیں اور جائیدادیں تو پہلے ہی ہم تقسیم کر۔ہیں۔اب صرف بھینسیں رہ گئی ہیں۔کہنے لگے جی ان کو علیحدہ کیا جائے۔ان منکرین ختم نبوت اور گستاخان ختم نبوت کی بھینس بھی تمہارے پاس نہیں ہونی چاہئے۔الگ کرو۔کہنے لگے جی کہ یہ کام تو پھر آپ ہی کر سکتے ہیں۔صاحب بصیرت ہیں آپ۔اور شمع ختم نبوت“ کے پروانے ہیں۔آپ ہر بھینس سے پوچھ لیں جو ختم نبوت کو مانتی ہو وہ ہمیں دے دی جائے اور جو نہیں مانتی وہ ان کے حوالے کر دی جائے۔اس کے علاوہ حضرت مرزا مبارک احمد صاحب نے مجھے یہ بات بتائی۔حضرت مرزا مبارک احمد صاحب نے فرمایا کہ ان کے نانا کے خاندان یعنی خلیفہ حمید الدین اور حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کے خاندان کے جو غیر از جماعت بعض بزرگ کراچی میں مقیم تھے۔کہنے لگے کہ میں ان کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ دلچسپ بات ہوئی ہے۔ایک مولوی صاحب نے آکر کہا کہ آپ نے سنا ہے خلیفہ صاحب؟ مرزائیوں کو تو گورنمنٹ نے غیر مسلم قرار دے دیا ہے۔کہنے لگے آپ کا تو کوئی تعلق مرزائیوں کے ساتھ نہیں ہے۔آپ کو فکر کرنی چاہئے اگر آپ کا تعلق ہے۔کہنے لگے مرزائی نمازیں پڑھتے ہیں مجھے کبھی دیکھا ہے نماز پڑھتے ہوئے ؟ میں شراب پیتا ہوں۔کوئی مرزائی ایسا ہے جو شراب پیتا ہو؟ میں مرزائی کیسے ہو سکتا ہوں۔کہنے لگے جی الحمد للہ خدا کا شکر ہے مرزائیت کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔کراچی کے ایک احمدی ملے جب میں پہلی دفعہ گیا ہوں اس فیصلے کے بعد میں نے تمام واقعات اس وقت ان کے سامنے بیان کئے تھے۔اس وقت حضرت چوہدری احمد مختار صاحب بھی تشریف فرما تھے اور اسی طرح جماعت کے جو بزرگ تھے اور مخلص نوجوانوں ، خدا کے شیر، ان کی مجلس تھی۔تو میں نے وہ ساری باتیں بتائیں اور میں نے پہلے اشارہ بھی کیا ہے کہ قطعا ہم پر کوئی پابندی نہیں تھی کہ ہم بیان نہ کریں۔میں بیان کرتا تھا اور حضور کو بتا تا تھا۔اتنی بات ہے کہ میں نے اکثر اپنی الله رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ 1974ء کا دارالندوہ ہے۔وہ تو قریش کا تھا رسول پاک ﷺ کے زمانے میں۔622ء میں اور یہ دارالندوہ اس زمانے کا ہے تو وہ میں نے ساری مفصل کا رروائی دارالندوہ کی بیان کر دی ہے۔تو آخر میں کراچی کے ہمارے ایک احمدی بزرگ کہنے لگے کہ یہاں ایک دلچسپ