اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 371 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 371

371 پوری ہونے کے باوجود وہ اب نئے نئے شوشے چھوڑ رہے ہیں اور اپنے عہد سے پھر رہے ہیں۔مولانا شاہ احمد نورانی صاحب (نوائے وقت لاہور 14 ستمبر 1974ء) 7 ستمبر 1974ء قومی اسمبلی کے فیصلہ کا سہرا اوزیر اعظم بھٹو کے سر باندھنے والے علمائے دین کے متعلق شاہ احمد نورانی صاحب کہتے ہیں:۔” دراصل یہ خوشامدیوں کا ٹولہ ہے جو اپنے مادی مفادات کی خاطر ہر دور میں چڑھتے سورج کی پوجا کرتا ہے۔اس کی ساری سوچ اس لیے وقف ہوتی ہے کہ کب اور کس طرح انہیں کوئی موقع ملے اور یہ دُم ہلاتے ہوئے اور زبان چاہتے ہوئے خوش آمدید کے لیے پہنچ جاویں تا کہ سرکاری نظر کرم ہو جائے۔“ (ترجمان اہلسنت کراچی نومبر 1974ءصفحہ 21) تو اب یہ دونوں سہرے باندھنے کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ملاں کو اپنے مستقبل کا فکر تھا۔اور بھٹو صاحب اس داؤ پر تھے کہ آئندہ الیکشن میں نے اس بنیاد پر جیتنا ہے۔چنانچہ اس کے بعد پھر جو بھی پمفلٹ شائع ہوئے۔بھٹو صاحب کی تقریر میں شائع ہوئیں یا جو بھی سرکلر جاری کئے گئے، جو بیانات سرکاری طور پر دیے گئے ، اس میں خاص طور پر یہ اہتمام کیا جاتا تھا کہ پیپلز پارٹی وہ پارٹی ہے جس نے کہ وہ نوے سالہ مسئلہ جو کسی سے حل نہیں ہوا تھا۔ملاں سے بھی حل نہیں ہوتا تھا۔نوے سال سے حل نہیں ہوتا تھا۔ہم نے پندرہ منٹ میں حل کر کے دکھا دیا ہے۔اب کون ہے جو ہمیں ووٹ نہ دے۔لیکن پیپلز پارٹی نے اس سلسلہ میں جو کیا وہ بھی کمال تھا۔اس کو دراصل کہتے ہیں جنگ زرگری۔، اگر اردو کی لغات دیکھیں۔اس میں ” جنگ زرگری‘ ایک لفظ آتا ہے۔” جنگ زرگری‘ کیا چیز ہے؟ اس کا ایک تاریخی پس منظر بعض ادیبوں نے لکھا ہے۔وہ بات یہ تھی کہ ایک زمانے میں بغداد میں دو فقیر ہوتے تھے۔اب ظاہر ہے کہ بغداد سنیوں کا بھی مرکز ہے اور شیعہ