اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 347 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 347

347 ہیں۔یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو کہ صرف قادیانیوں سے متعلق ہو۔یہ انہیں تأثر دیا۔اس میں شک نہیں کہ ممبران اسمبلی کا ذہن ہمارے موافق نہیں تھا۔بلکہ ان سے متاثر ہو چکا تھا۔تو ہم بڑے پریشان تھے۔چونکہ ارکان اسمبلی کا ذہن بھی متاثر ہو چکا تھا۔اور ہمارے ارکان اسمبلی دینی مزاج سے بھی واقف نہ تھے۔اور خصوصاً جب اسمبلی ہال میں مرزا ناصر آیا تو قمیض پہنے ہوئے اور شلوارو شیروانی میں ملبوس ، بڑی پگڑی ، طرہ لگائے ہوئے تھا اور سفید داڑھی تھی۔تو ممبروں نے دیکھ کر کہا کیا یہ شکل کا فر کی ہے؟۔اور جب وہ بیان پڑھتا تھا تو قرآن مجید کی آیتیں پڑھتا تھا اور جب حضور اکرم صلعم کا نام لیتا تو درود شریف بھی پڑھتا تھا۔تو ہمارے ممبر مجھے گھور گھور کر دیکھتے تھے کہ یہ قرآن اور رسول کریم کے نام کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہے اور تم اسے کافر کہتے ہو اور دشمن رسول کہتے ہو۔اور پراپیگنڈے کے لحاظ سے یہ بات مشہور ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے۔تو جب وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو تمہیں کیا حق ہے کہ آپ ان کو کا فرکہیں۔تو ہم اللہ تعالیٰ سے دست بدعا تھے کہ اے مقلب القلوب ان دلوں کو پھیر دے۔اگر تو نے بھی ہماری امداد نہ فرمائی تو یہ مسئلہ قیام قیامت تک اسی مرحلہ میں رہ جائے گا اور حل نہیں ہو گا۔حتی کہ میں اتنا پریشان تھا کہ بعض اوقات مجھے رات کے تین 66 چار بجے تک نیند نہیں آتی تھی۔“ یہ ہفت روزہ ”لو لاک“ لائل پور 28 دسمبر 1975ء کی اشاعت ہے۔اور اس کا صفحہ 18-17 ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: مفتی محمود صاحب شاید اس وقت قائد حزب اختلاف تھے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔ہاں قائد وہی تھے اور انہی کی طرف سے دوسرا محضر نامہ پیش کیا گیا تھا۔بعد میں پھر چونکہ رہبر کمیٹی کے ممبر بن گئے تو اس کو انہوں نے ترک کر دیا۔اگر چہ پرا پیگنڈے کے لئے ضرور کہا کہ ہم نے ختم نبوت کا اس وقت حق ادا کیا اور ہمارا محضر نامہ تیار ہوا اور یہ