اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 304
304 ہیں۔پھر سراج منیر میں ایک صفحہ ہے 74 صفحہ۔میں نے شعبہ تاریخ کے مخلص جو شعبہ کمپیوٹر کے انچارج ہیں، ان سے یہ درخواست کی کہ آپ یہ سارے صفحے بتائیں کتنے بنتے ہیں؟ مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی بھر کی کتابوں میں جہاں انگریز کی تعریف کی گئی ہے۔حضرت محمد عربی ﷺ نے بھی تو تعریف کی تھی۔یہ بات مجھے یاد آئی کہ شیش محل روڈلاہور پر جماعت اہلحدیث کا ایک کتب خانہ ہے۔میں وہاں ایک عرصہ دراز ہوا، گیا۔خلافت ثانیہ کی بات تھی۔وہاں یہ قصہ شروع ہوا۔میں تو جہاں جاتا ہوں لازماً دعوت الی اللہ میرے فرائض میں شامل ہوتی ہے ایک مربی سلسلہ ہونے کی حیثیت سے۔اور یہ ہماری روح ہے۔ہماری غذا ہے۔تو میں نے ان سے کہا کہ حضرت رسول پاک ﷺ کی طرف منسوب یہ روایت علامہ سیوطی نے بھی لکھی ہے کہ حضور نے فرمایا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نوشیروان عادل کے زمانہ میں پیدا ہوا۔حالانکہ وہ پکا دہریہ تھا۔میں نے کہا کہ اگر مرزا صاحب کی ساری کتابوں کے حوالے ایک معنی میں آپ جمع کر دیں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایک فقرہ اس پر غالب ہے کیونکہ اعلان کرنے والے سید نا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو نبیوں کے سردار ہیں۔اور پھر فخر کس پر کر رہے ہیں؟ نوشیروان کے اوپر ، جو د ہر یہ ہے۔تو کسی کی انصاف پروری کو سراہنا، اس کی تعریف کرنا، یہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔میں نے مولانا حافظ انوار رسول صاحب سے یہ کہا کہ آپ ذرا بتا ئیں تو سہی کہ کتنے صفحے بنتے ہیں؟ تو ہزاروں صفحات کے لٹریچر میں مسیح موعود علیہ السلام نے انگریزوں کے عدل کے متعلق جو لکھا ہے اس کے مجموعی صفحات 183 بنتے ہیں۔خود کاشتہ پودا بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرہ خون نکلا حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔ایک سوال حضور سے اسمبلی میں یہ ہوا کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کو ایک اشتہار میں انگریز کا خود کاشتہ پودا کہا ہے۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے جواب میں فرمایا کہ خود کو نہیں اپنے خاندان کو جو