اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 287 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 287

287 جو بلی منا رہی تھی اور اس دور کی حکومت ملاؤں کی پشت پناہی کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کو جو بلی کی خوشیوں سے محروم کرنا چاہتی تھی۔عین اس وقت یہ کتاب شائع کی گئی اور بیک وقت امریکہ اور ہندوستان سے چھپی اور کسی احمدی کو پتہ نہیں ہے۔میرے پاس موجود ہے۔آسٹریلیا کے ایک احمدی نے میرے پاس بھجوائی تھی۔تو میں بتانا یہ چاہتا ہوں۔حمید نظامی صاحب کا میں ذکر کر رہا تھا۔وہ خطوط چھپے ہوئے موجود ہیں۔اس کتاب کا نام ”نشانِ منزل“ ہے۔وہ دوبارہ بھی ان کی سوانح عمری میں چھپ چکے ہیں۔اس میں اپنی بیگم کو لکھتے ہیں کہ میں ہوائی جہاز میں بیٹھا تھا۔ایک بہت ذہین یہودی لیڈر بھی تھا۔وہ بہت گالیاں دے رہا تھا چوہدری سر ظفر اللہ خان کو۔مگر ان کی قابلیت کا بے حد مداح تھا۔وہ مشن کیا کر رہا ہے 1928 ء سے؟ لاکھوں مسلمان اسرائیل موجود ہیں مگر کون ہیں جنہوں نے یہود تک محمد عربی ﷺ کا پیغام پہنچایا؟ وہ کون ہے جس نے قرآن کی عظمتوں کو ثابت کیا ؟ اب بھی آپ دیکھیں مصر کے بشپ نے بھی اعتراض کیا ہے اور آج حیفہ اور فلسطین کا احمدی اس کا جواب دے رہا ہے۔اور آج عرب دنیا کو محسوس ہو چکا ہے کہ کا سر صلیب کے شاگر رہی ہیں جو عیسائیت کو للکار سکتے ہیں۔ہاں یہ میں بتانا بھول گیا۔وہاں کی عرب جماعت احمدیہ کا کردار میں نے ذکر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔گر نبودے در مقابل، روئے مکروہ کس چه دانستے، جمال شاہد گلفام را اس فارسی کلام کا ترجمہ ہے کہ اگر سفید چہرے کے مقابل سیاہ چہرہ موجود نہ ہو تو اس نورانی چہرے کی عظمت کا پتہ کیسے لگ سکتا ہے۔تو جماعت احمدیہ، حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب اور حضرت مصلح موعود کی بات تو واضح ہے کہ جس وقت یہ خنجر گھونپا گیا اسرائیل کا، حضرت مصلح موعودؓ ہی تھے جنہوں نے الکفر ملة واحدة“ شائع کیا ، اس کا پھر عربی ترجمہ شائع ہوا۔شیخ نور احمد منیر صاحب (حضرت شیخ مبارک احمد صاحب کے چھوٹے بھائی۔ایک دفعہ شیخ صاحب مجھے کہنے لگے کہ میں اپنے چھوٹے بھائی کو ولی اللہ سمجھتا ہوں۔بہت ہی پارسا انسان اور عرصہ دراز تک بلا دعر بیہ میں رہے۔بڑے با ذوق انسان تھے۔اور عربی تو ایسے جیسے ان کے گھر کی زبان ہو۔بہترین شائستہ عربی میں نے بولتے دیکھا ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے بعد ان کا مقام تھا) نے ترجمہ کیا۔تو