اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 288
288 یہ تو جماعت احمدیہ کے کارنامے ہیں۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: محترم شیخ صاحب کے خرچ پر اس ترجمہ کو سارے شام وغیرہ میں تقسیم کیا گیا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔ہاں شام اور عرب ملکوں نے ریڈیو پر اس کو نشر کیا اور اخباروں نے بھی شائع کیا۔اس کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا کہ اسلامی دنیا کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی پیغام نہیں ہے، فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کرنے کے لحاظ سے۔حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ یا درکھوسوال فلسطین کا نہیں بلکہ یہ مکہ اور مدینہ کا مسئلہ ہے۔دشمن یہ چاہتا ہے سرنگ لگا کر فلسطینی مسلمانوں کو نگلنے کے بعد براہ راست مکہ اور مدینہ پر حملہ کر دے۔تو خدا کے لئے تمام مسلمان اکٹھے ہو جائیں اور ہر ملک میں مسلمان اپنی حکومتوں سے مطالبہ کریں کہ اتنے فیصدی ہر مسلمان اپنی جائیدادوں کا اپنی حکومتوں کو دینے کے لئے تیار ہوں اور وہ جس طرح بھی ہو سکے، جتنا اسلحہ ہو سکے فوری طور پر خریدیں کیونکہ غریب فلسطینی مسلمان آج یہودیوں کے اس خوفناک حملے کی ، جس کی پشت پناہی امریکہ بھی اور رشیا بھی کر رہا ہے، تاب نہیں لا سکتے۔یہ آواز تھی جو مصلح موعودؓ نے بلند کی تو اس پر وہ ری ایکشن (Reaction) ہوا چوہدری سر ظفر اللہ خان کی آواز کا۔اس کے بعد میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہے تھے عرب کے رہنے والے۔میں ان دنوں ابوظہبی میں تھا۔یہ 12 مئی 1988 ء کا "الاتحاد" ہے۔یہ الاتحاد اسی طرح بہت مقبول ہے امارات متحدہ میں جس طرح پر کہ یہاں ”جنگ“ ہے۔”خبریں“ ہے ”دن اخبار ہے۔تو یہ بہت پاپولر اخبار ہے۔یہ رمضان کے دن تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ارشاد پر میں موجود تھا امارات متحدہ میں اور یہ پرچہ لیلۃ القدر کی رات کے حوالے سے تھا۔اس کا اداریہ بھی لیلۃ القدر کے متعلق تھا۔اس میں کارٹون بنایا کہ مسلمان عرب کیا کر رہے ہیں۔اداریہ میں لکھا ہے کہ یہ لیلۃ القدر ہے اور یہ خَيْرٌ مِنْ الْفِ شَهَر (القدر: 4) قرآن مجید کا ارشاد ہے۔آنحضرت ﷺ نے تو یہ دعا سکھائی ہے کہ لیلۃ القدر جب کسی شخص کو اللہ تعالیٰ اس عظیم گھڑی کو دیکھنے کی توفیق بخشے اور سعادت عطا فرمائے تو ایک دعا سکھائی۔غالبا اس میں الفاظ یہی ہیں کہ