اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 284
284 ظفر الله خان بطل قضية فلسطين في امم المتحدة اور اس کے لکھنے والے عبدالحمید ہیں۔هذا المقالة الثمينة التي طبعت في الرسالة العربى مع التصاوير وخدمات الاسلامية ودينيه الذى خدمتها السيد ظفر الله خان رحمه الله تعالیٰ و نورالله مرقده تو دنیا کی کون سی طاقت ہے کہ ان خدمات کو فراموش کر سکے جو چاند اور ستارے کی طرح آسمان فلسطین کے اوپر بلکہ آسمان اسلامی دنیا کے اوپر جگمگا رہے ہیں اور جگمگاتے رہیں گے۔یہ ایسا مرحلہ تھا کہ خود فلسطینی اور عرب لیڈروں نے تسلیم کیا کہ ہمیں ان باتوں کا علم نہیں تھا جو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس وقت ہمارے حق میں پیش کی تھیں۔یہ سازشیں تھیں جو امریکہ اور رشیا اور خود انگلستان کی گٹھ جوڑ کے ساتھ بروئے کار لائی گئیں۔قریب تھا کہ یو این او (UNO) کی طرف سے Majority (بھاری اکثریت ) کے ساتھ یہ قرار داد پیش ہوتی کہ فلسطین پر فلسطینیوں کا حق ہے، یہودیوں کا حق نہیں۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کہا کہ اگر اتنا ہی آپ کو درد ہے یہودیوں کے متعلق تو امریکہ کیوں اپنی جگہ پر کیلی فورنیا میں کوئی کالونی نہیں آباد کرتا۔رشیا کو ماسکو کے قریب کوئی جگہ بنانی چاہئے۔یہ کیا صورت ہے کہ غریب فلسطینی عربوں کو مجبور کیا جائے کہ تم اپنی زمینیں ان کو دے دو۔یہ تو انتہائی ظالمانہ بات ہے۔قانوناً، بین الاقوامی قانون کے لحاظ سے، اخلاق کے لحاظ سے، سیاست کے اعتبار سے کوئی حق نہیں بنتا۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے اس زور دار بیان نے تہلکہ مچا دیا۔اب یہ چیزیں تو چوہدری صاحب کے یا مسلمان ملکوں کے، کسی کے اختیار میں نہیں تھیں بلکہ بڑا سخت رویہ اس وقت تینوں طاقتوں نے اختیار کیا اور یہ ایسی صورت تھی کہ اس کی وجہ سے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف استعماری طاقتیں اکٹھی ہوئیں اور الاستاذ علی الخیاط آفندی صاحب نے جو کہ عراق کے بہت بڑے صحافی تھے، بغداد کے مشہور اخبار الانباء“ 21 ستمبر 1954ء میں ایک مقالہ سپر د قلم کیا۔” تاریخ احمدیت میں بھی موجود ہے۔اس کے الفاظ اور اس کا متن موجود ہے۔عربی زبان میں انہوں نے لکھا کہ حیرت کی بات ہے کہ جب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے فلسطین کے حق میں آواز بلند کی تو سارا استعمار آگ بگولہ ہو گیا۔اور کہتے ہیں