اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 209
209 ہوتی ہے۔تو یہ کشف ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے۔حضرت پیران پیر فرماتے ہیں کہ:۔ایک شب میں نے دیکھا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی آغوش میں داہنی چھاتی سے دودھ پی رہا ہوں۔پھر آپ نے بائیں چھاتی نکالی اور میں نے دودھ پیا۔اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے داخل ہو کر فرمایا کہ اے عائشہ! یہ ہمارا حقیقی فرزند ہے۔“ یہ قلائد الجواہ“ موجود ہے۔یہ تو عربی میں ہے’قلائد الجواہر۔آپ کے شمائل کی اردو میں کتاب ہے۔اس کتاب میں اس کو درج کیا گیا ہے۔یہ ایک عرب تھے صدیوں قبل کے، انہوں نے ایک کتاب لکھی۔اس کتاب کا ترجمہ ” گلدستہ کرامت“ کے نام سے 1896ء میں شائع ہوا ہے۔(قلائد الجواہر مترجم مولانا زبیر افضل عثمانی صفحہ 187 ناشر مدینہ پبلشنگ کمپینی محمد علی جناح روڈ۔کراچی ) اب آپ اس سلسلہ میں یہ بھی دیکھیں۔حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے متعلق سوانح الله احمدی میں ان کے مرید مولوی محمد جعفر خان صاحب تھانیسری نے لکھا ہے کہ:۔ایک رویاء میں رسول اللہ ﷺ نے تین چھوارے اپنے دستِ مبارک سے سید صاحب کے منہ میں ایک دوسرے کے بعد رکھ کر بہت پیار اور محبت سے کھلائے۔اور جب آپ بیدار ہوئے تو شیرینی ان چُھواروں کی آپ کے ظاہر اور باطن سے ہویدا تھی۔اس کے بعد ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور جناب سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہما کو سید صاحب نے خواب میں دیکھا۔اس رات کو حضرت علیؓ نے اپنے دست مبارک سے آپ کو نہلایا اور حضرت فاطمہ نے ایک لباس اپنے ہاتھ سے آپ کو پہنایا۔“ (سوانح احمدی صفحہ 10 ناشر صوفی پر نٹنگ اینڈ پبلشنگ کمپنی لمیٹڈ ،منڈی بہاء الدین) یہ رویاء کن کا ہے؟ حضرت سید احمد صاحب بریلوی کا جو سواغ احمدی میں موجود ہے۔ایک مجدد، حضرت مجدد الف ثانی " بہت ہی شہرہ آفاق شخصیت ہیں۔اپنے مکتوبات ( دفتر سوم، حصہ دوم ) میں اپنے ایک کشف کا ذکر کر کے فرماتے ہیں:۔