اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 137 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 137

137 آپ بادشاہی مسجد میں کیوں نہیں گئے۔کہنے لگے کہ نہیں میں بادشاہی مسجد میں گیا تھا اور نماز و ہیں پڑھتا ہوں۔کہنے لگا میں نے تو نہیں دیکھا۔کہنے لگے میں نے اپنی چارپائی کا نام بادشاہی مسجد رکھا ہوا ہے۔تو میں نماز ہمیشہ بادشاہی مسجد ہی میں پڑھتا ہوں اور مراد میری چار پائی ہے۔تو حضرت اگر یہ حضرات اپنا نام اصطلاح کے لحاظ سے ملت اسلامیہ رکھیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔مگر انہیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ مسلمانوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے۔مسلمان تو ان کو پہلے ہی اسلام کا غدار قرار دے چکے ہیں۔ان کو تو اپنا نام کہتے ہوئے ہی شرم کھانی چاہئے تھی مگر یہ عجیب بات ہے کہ اسلام کے غذاروں نے اس زمانہ میں آکر کتاب لکھی اور کہا کہ آج ہم غدار نہیں آج ہم ملت اسلامیہ کے ترجمان اور سفیر کی حیثیت سے پیش ہوں گے۔شیطان نے بہت جھوٹ بولے ہوں گے لیکن میرا خیال ہے کہ بیسویں صدی میں اس سے بڑا کوئی جھوٹ نہیں ہوگا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔مولانا آپ نے بتایا کہ ایک محضر نامہ تو وہ تھا جو کہ مجلس تحفظ ختم نبوت والوں کی طرف سے پیش کیا گیا اور اس کا نام انہوں نے ملت اسلامیہ کا موقف رکھا۔اور اس کا آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ پوسٹمارٹم کیا ہے کہ ملت اسلامیہ اصل کیا تھی اور کس طرح انہوں نے اس کا نام چرایا۔اس میں جو دوسرا محضر نامہ پیش کیا گیا وہ مولانا غلام غوث ہزاروی کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔کیا آپ مولانا غلام غوث ہزاروی کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔ایک خاص چیز بیان کرنی ہے۔بہت دلچسپ اور دو باتیں عرض کرنی چاہتا ہوں۔ان کے محضر نامہ میں جو خاص بات کہی گئی اور ملت اسلامیہ، یعنی مولوی تقی صاحب اور سمیع الحق صاحب نے نہیں بیان کی۔وہ یہ تھی کہ یہ زمانہ جمہور بیت کا ہے اور ہمیں اختیار ہے کہ ہم جس کو چاہیں کا فر سمجھیں اور جس کو چاہیں فیصلہ کریں کہ کا فرنہیں ہے اور اس کے لئے تاریخی صلى الله ثبوت ہمارے پاس یہ ہے کہ آنحضرت علیہ کے خلاف قریش مکہ نے دارالندوہ میں فیصلہ کیا تھا اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ اکثریت آنحضرت کے خلاف تھی۔اس وجہ سے انہوں نے فیصلہ صادر کیا۔اسی طرح آج ہمارا حق ہے کہ اکثریت ہونے کی وجہ سے ہم بانی جماعت احمد یہ اور جماعت کے متعلق فیصلہ کریں۔یہ عجیب بات ہے میں سوچ رہا تھا اور اس پر میں نے مقالہ لکھا ہے۔ہفت روزہ لا ہور میں چھپا۔یہ ہفت روزہ لاہور 24 مارچ 1975ء صفحہ 10 تا 13 میں شائع شدہ ہے پھر اس کے بعد الفضل