اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 121
121 مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔جی اسی کے میں اقتباس پیش خدمت کر رہا ہوں۔مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کے ترجمہ قرآن کے دیباچہ میں لکھا ہے۔( یہ حوالہ اگر چہ پہلے آچکا ہے لیکن یہاں ضروری ہے جو اس کو سنایا جائے۔) فرماتے ہیں:۔اسی زمانہ میں پادری لیفر ائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا۔حضرت عیسی کے آسمان پر بجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا۔تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور لیفر ائے اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسی جس کا تم نام لیتے ہو۔دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں۔پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو۔اس ترکیب سے اس نے لیفر ائے کو اس قدر تنگ کیا کہ اس کو اپنا پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا۔اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔“ (دیباچه صفحه 30 مرتب و ناشر مولوی نور محمد قادری نقشبندی چشتی مالک اصبح المطابع و کارخانه تجارت کتب آرام باغ کراچی) تین سوال تھے جو اٹھائے گئے تھے، ان میں سے دوسرے سوال کے سلسلہ میں بتایا گیا کہ جس قسم کی نبوت کا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے دعوئی فرمایا ہے اس کا ذکر آنے والے موعود کے لئے سلف صالحین کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔اور خو درسول اکرم ﷺ نے آنے والے موعود کو چار مرتبہ نبی اللہ کے لفظ سے یاد فرمایا ہے۔چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت النواس بن سمعان سے یہ روایت موجود ہے۔( صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 516-515 مطبوعہ مصر ) اس کے بعد وہ حوالے جو کہ محضر نامہ میں موجود تھے اس میں دیئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے