اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 117
117 ردیف الگ ہیں۔مگر ہے وہ روحانیت میں ڈوبا ہوا۔اگر اجازت دیں تو میں سناؤں۔کہنے لگا وہ تو ضرور سنانا چاہئے۔ایک روحانی لیڈر کے سامنے ایک سیاسی لیڈر اور شاعر کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے۔ضرور سنا ئیں۔اس وقت پھر میں نے خوش الحانی سے یہی شعر پڑھا۔میرے پکڑنے پہ قدرت کہاں تجھے صیاد که باغ حسن محمد کی عندلیب ہوں میں وہ تو جناب پھڑک اٹھا۔کہنے لگے کہ جس طرح سورج کے مقابلے پر ذرے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح داغ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔کہنے لگے دوسرے کون ہیں میں نے کہا وہ امیر شریعت احرار ہیں۔میں نے بتایا کہ آخری شعر امام جماعت احمد یہ سیدنامحمود کا ہے۔کہنے لگے کہ جتنی ایک ذرے کی حیثیت سورج کے مقابل پر ہوتی ہے اس کے مقابل ان اشعار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔یہ شعر تو ایک عارف انسان اپنے نقطۂ معراج پر پہنچ کر کہ سکتا ہے۔کتابچہ ہمارا موقف حافظ محمد نصر اللہ صاحب : جزاکم اللہ۔مولانا صاحب! قومی اسمبلی میں جو کتب اور رسائل " پیش کئے گئے، ان میں ایک کتابچہ ”ہمارا موقف بھی ممبران کو خصوصی طور پر پیش کیا گیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور حوالہ جات موجود ہیں۔از راہ کرم اس کتا بچہ کا خلاصہ اور کچھ حوالہ جات ناظرین کے لئے پیش فرمائیں! مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔بات یہ ہے کہ کتابچہ ”ہمارا موقف صمدانی عدالت کے لئے تیار کیا گیا تھا اور اس کا خلاصہ یہ ہے۔عنوان تو یہ ہے: ”ہمارا موقف بانی سلسلہ احمدیہ کو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ سے ایک احقر خادم کی نسبت ہے۔“ ' حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ختم نبوت کا اقرار اور حضرت خاتم النبین حضرت محمد مصطفی اللہ کے خاتم النبین ہونے پر ایمان کا نہایت شد ومد سے اعلان فرمایا ہے۔“ آگے پھر حضرت مسیح پاک کی زبر دست تحریرات کے وہ حوالے دیئے گئے ہیں جن میں کہ ختم نبوت