رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 98 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 98

۹۸ اپنی قوم کے دستور کے مطابق ستاروں کی چال سے اندازہ لگایا اور اپنی قوم کو شرمندہ کرنے کے لیے کہا کہ تمہاری جوش کے اصول سے تو میں بیمار ہونے والا ہوں دیکن خدا تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا۔) فَنَظَرَ نَفْرَةٌ فِي النُّجُوْمِ O فَقَالَ إِنِّي سَقِيمُ رسورة الققت آیت (۹۹) ترجمہ :۔الپس اس نے ستاروں کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔قوم ابراہیم کیونکر تاروں کی تاثیوں پر اعتقاد رکھتی تھی۔اس نے اپنے مقید کے لحاظ سے یہ جا کہ واقعی برای کانکس ادارہ کے بالز میں بتا ہیں۔یہ رہا کرو ارگ ابراہیم کو چھوڑ کر میلہ میں چلے گئے۔اب جب کہ ساری قوم تہوار منانے میں سکول تھی۔حضرت ابراہیم چپکے سے بت خانہ کی طرف آئے وہاں کھانے رکھے تھے۔آپ نے طنز ا بتوں سے کہا۔کیا تم کچھ کھاتے نہیں نہیں کیا ہوا ہے کہ تم بولتے بھی نہیں ؟ پھر چپکے سے ایک کاری سی ضرب اُن پر لگادی۔پھر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا سوائے ان میں سے بڑے کے تاکہ وہ ایک دفعہ پھر اس کے پاس آئیں۔فَراعَ إِلَى الهَتِهِمْ فَقَالَ الَا تَأْكُلُونَ في مَا تَكُمْ لَا نطِقُونَ فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ O رسورة الصافات) فَجَعَلَهُمْ جَذَا ذَا الأَبِيْنَا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ (سورة الانبيار آیت ۵۹) حضرت ابراہیم نے بڑے بت کو چھوڑ کر بیاتی نیتوں کو ریزہ ریزہ کر کے عملی صورت میں ان بتوں کی بڑائی قوم پر ظاہر کردی۔