رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 93 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 93

۹۳ إبْرَاهِيمَ حَيْتُقَاتِمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ترجمہ :۔تو کہہ دے کہ یقیناً میرے رب نے میری سیدھے راستے کی طرف را ہنمائی کی ہے۔ایسے دین کی طرف جو بغیر کسی کچی کے ہے۔یعنی ابرا ہیم کے دین کی طرف جو سچائی پر قائم تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔نس: حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکنے اور توحید اختیار کرنے کے لیے کیا لفاتح کیں ؟ ج: حضرت ابراہیم نے جب دیکھا کہ اب آزر نے رشد و ہدایت کو قبول کرنے سے انکا کر دیا ہے تو آپ نے اپنی دعوت حق کے پیغام کو وسیع کر دیا اور قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : مَا هُدِهِ الثَّمَانِيْلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَالِفُونَ - (سورة الأنبياء ) یہ کیا مجتے ہیں جن کے آگے تم دن رات میٹھے رہتے ہو۔یہ عقیر چیزیں تو پرستش کے لائق نہیں ہیں۔یہ تو نہیں کی قسم کا نفع پہنچاسکتی ہیں اور نہی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی رب ہے حسیں نے اُن کو پیدا کیا اور میں اس بات پر تمہارے سامنے گواہ ہوں۔اس قوم نے آپ کو ان باتوں کا کیا جواب دیا ؟ ج : قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو بتوں کی عبادت کرتے ہوئے دیکھنا تھا اس لیے ہم بھی نینوں کی عبادت کرتے ہیں۔س: حضرت ابراہیم نے ان کے جواب کو سُن کر انہیں خدائے واحد کی ہستی کی طرف کس طرح تو جہ دلائی ؟ ج : حضرت ابراہیم نے اُن سے کہا کہ تم اور تمہارے آباؤ اجداد ایک کھلی گرا ہی میں مبتلا تھے۔تمہارے یہ سب معبودان باطلہ سوائے رب العالمین خدا کئے یہ میرے دشمن ہیں۔آپ نے رب العالمین خدا کی صفات بیان کرتے ہوئے