رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 87
کہلایا۔چونکہ تا ریخ میں یہ باتیں موجود تھیں اس وجہ سے اسے آندر کہا گیا اور ان راس کا وصفی نام ہے اور تاریخ اس کا اسمی نام ہے اور قرآن مجید نے وصفی نام آن رلیا ہے۔بعض کا خیال ہے کہ آخر اس بت کا نام ہے، تاریخ ، جس کا بیجاری تھا۔: کیا قرآن مجید کے لفظ اب " سے مراد آپ کے پیچا ہیں ؟ ج :۔بعض کے نزدیک حضرت ابرا ہیم کے والد کا نام تاریخ تھا اور پھچا کا نام آذر تھا۔اور چونکہ چچا نے آپ کی پرورش کی تھی اور وہ بہزار باپ کے تھے۔اس لیے قرآن مجید میں آنار کو باپ کہہ ہ پکارا گیا ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : العمر منو ابيد یعنی چچا باپ ہی کی طرح ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کے نزدیک اب سے مراد آپ کے چھاتھے کیونکہ ربنا الحفر لي واليو الدى کی دعا میں آپ نے والدی فرمایا ہے اور یہ آپ کی آخری عمر کی دعا ہے۔اور جہاں ردعا کرنا مصنع ہے وہاں آپ کا لفظ ہے۔الأقول ابراهيم لا بِي لَا تَغْفِرَنَّ لَكَ سے علم ہوا کہ اب سے مراد بیچا تھا والد نہیں۔(درس القرآن ص ) شد: حضرت ابراہیم کے والد کیا کرتے تھے ؟ ج : حضرت ابراہیم کے والد نجاری کا پیشہ کرتے تھے اور اپنی قوم کے مختلف قبائل کے لیے لکڑی کے مثبت بناتے اور فروخت کیا کرتے تھے۔ل : حضرت ابراہیم کا بچپن کیسے گزرا۔ج : حضرت ابراہیم بچپن ہی سے بتوں سے نفرت کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے