رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 76
64 قرآن مجید میں سورۃ ہود آیت 4 میں آتا ہے۔قال يقدم هؤلاء بنات من الهرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا الله وَلَا تُخَرُونِ نِي في اليسَ مِنكُمْ رَجُل رَشِيدُه ترجمہ : حضرت لوط نے کہا۔اسے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے ہی گھروں میں بیاہی ہوئی ہیں) وہ تمہارے لئے (اور تمہاری آبرو بچانے کے لیے نہایت پاک رول اور پاک خیال نہیں ہیں تم اللہ کا تقوی اختیار کرد ، اور میرے بھائیوں کی موجودگی میں مجھے رسوا نہ کرد۔کیا تم میں کوئی سمجھیدار بھی نہیں ہے۔شکل : حضرت لوط نے لڑکیوں کو دکھ دینے کی تجویز کیوں پیش کی ؟ ج ، حضرت لوط نے ان لوگوں کی تسلی کے لیے یہ تجویز پیش کی کیو نکہ حضرت لوط جانتے تھے کہ نہ میں اُن سے غداری کروں گا اور نہ ہی لڑکیوں کو دکھ دینے کا سوال پیدا ہوگا۔شکل بر حضرت لوط کی قوم نے حضرت لوط کو کیا جواب دیا ؟ ج :۔انہوں نے کہا کہ تیری لڑکیوں کے متعلق ہمیں کوئی حق حاصل نہیں۔وہ تو پہلے ہی سے ہماری بہو بیٹیاں ہیں۔ہم نے تو امینی مہمانوں پر اعتراض کیا ہے۔قالوالد عليتَ مَا لَنَا فِي بَيْتِكَ مِنْ حَةٍ وَإِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُرِيدُ ترجمہ :۔انہوں نے کہا۔تو معلوم کر چکا ہے کہ تیری بیٹیوں کے متعلق نہیں کوئی حق حاصل نہیں اور جو کچھ ہم چاہتے ہیں تو اُسے تو جانتا ہے۔(سورہ ہود آیت (۸۰) شش: حضرت لوط ی قوم نے مہمانوں کو قابو کرنا چاہاتو کیا واقعہ پیش آیا؟ :- جب شہر والوں نے حضرت لوط کے مہمانوں کو قابو کر کے قید کرنا چاہا یا مار نا چاہا کہ پھر وہ اس کے پاس نہ آیا کریں۔جب باتوں سے وہ نہ مانے اور زبردستی