رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 24 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 24

۲۴ رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الكَافِرِينَ دَيَّارًا - ترجمہ : اے میرے رب ! زمین پر کافروں کا کوئی گھر باقی نہ رہ ہے۔کی دعا بد دعا نہ تھی بلکہ یہ دعا تھی کہ سب قوم ایمان سے آئے اور کوئی کا فن نہ رہے۔اگر یہ بد دعا ہوتی تو حضرت نوح اپنی قوم کے ایمان نہ لائے کی وجہ سے کیوں غم کھاتے۔جیسا کہ اللہ تعالے آپ کے متعلق فرماتا ہے۔دارى إلى نوح إنه لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ دُوْمِكَ إِلَّا مَنْ قَدْ أَمَنَ فَكَ تبيسُ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ۔(سورۃ ہود) ترجمہ۔اور فوج کی طرف وحی کی گئی کہ جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے سوا تیری قوم میں سے (اب) کوئی ایمان نہیں لائے گا اس لیے جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس وجہ سے تو انسوس نہ گھر اگر آپ قریہ کی تباہی کیلئے بد دعائیں کر رہے تھے تو ہر قوم کی تباہی کا سنکر آپ کیوں فلکین ہو گئے آیت وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الذِينَ ظَلَمُوا الهَوْ مُعْرَقُونَ۔کہ ظالموں کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کر کے الفاظ بھی بناتے ہیں۔کہ حضرت نوح نے بددعا اپنی طرف سے نہیں کی تھی اگر وہ بد دعا گو رہے ہوتے تو انہیں دعا کرنے سے روکنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔شکل:۔حضرت نوح کو خدا تعالیٰ کی طرف سرکشوں اور نافرمانوں کو سزا کا اعلان نوح خدا کی اور سزا کا سنانے کے بعد کیا حکم ملا۔ج - اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک کشتی کے تیار کرنے کا حکم دیا۔واصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْينًا کہ تو ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا۔