رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 120
ا : حضرت ابراہیم نے مکہ والوں کے لیے صرف وارزقهم من الثمرات کیوں کہا؟ ج : در حقیقت حضرت ابراہیم نے مکہ والوں کے لیے پھلوں کی دعا کر کے انتہا درجہ کی فراوانی کی دعا کر دی ہے۔کیونکہ مکہ میں ثمرات کا مہیا ہوتا ناممکن تھا۔کیونکہ ملکہ ایک ایسی بے آب وگیاہ وادی تھی جس میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی تھی۔پس آپ نے تازہ تازہ میرے مانگے اور جب میسو سے آجائیں گے تو اور چینوبیں خود بخود وہاں پہنچ جائیں گی۔آپ نے دعا کی کہ خدایا ان کو ثمرات سے محروم نہ کیجیو ، ایسی نازک اشیاء بھی پہنچ جائیں جن سے دنیا پر یہ محبت قائم ہو سکے کہ خدا نے اپنی خاطر قربانی کرنے والوں کے لیے جنگل میں منگل کر دیا ہے۔آج بھی اس ایرا سیمی دعا کی برکت سے مکہ والوں کو تازہ بتازہ پھل میسر آ رہے ہیں۔: حج کی عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے ؟ ج :- " حج اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کر تا ہے جو حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو بیت اللہ کے قریب ایک وادی غیر ذی زرع میں انتہائی بے سرو سامانی کی حالت میں چھوڑ کر سر انجام دی تھی۔جہاں نہ پانی تھا ۹۳ اور نہ کھانے کا سامان۔حج ایک عظیم انسان عیادت ہے اور علی اس بات کا اعلان ہے کہ ہم خد اتعالیٰ کی کی خوشنودی کی خاطر دیوانہ وار اس کی راہ میں ہر قسم کی قربانی کر نے کے لیے تیار ہیں اور انسان کی آنکھوں کے سامنے یہ نقشہ آجاتا ہے کہ خدا کی خاطر قربانی کرنے والے بچائے جاتے ہیں اور دائمی زندگی اور غیر معمولی انعامات کے وارث کئے جاتے ہیں۔حضرت ابراہیم نے مکہ کے لیے کیا دعا مانگی ؟ س: