رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 121 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 121

۱۲۱ ج :- آپ نے خدا تعالی سے یہ دعا کی کہ اس شہر نگر کو امن کی جگہ بنا ، اور میری اولاد کو شرک سے دور رکھیں۔(5) وَإِذْ قَالَ إِبْراهِيمُ رَبِّ اجْعَلُ هَذَا الْبَلَدَا مِنًا وَلِجُنبي وبى ان تعبدِ الْأَصْنَامَ آپ نے یہ دعا اس وقت مانگی تھی کہ جب مکہ مکرمہ کوئی شہر نہ تھا صرف چند جھونپڑیاں تھیں۔اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم اس امر کا علم رکھتے تھے کہ مکہ کے علاقے میں مشرک پھیلنے والا ہے تبھی انہوں نے دعا کی۔ورنہ میں وقت حضرت ابراہیم نے دعا کی مکہ میں شرک کا نام و نشان تک نہ تھا صرف اسماعیل کا گھر آباد تھا یا وہ لوگ بستے تھے جو ان کے تابع تھے۔؟ کیا حضرت اسماعیل کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آتا ایک ظالمانہ اور وحیات فعل تھا ؟ ج :- جی نہیں حضرت اسماعیل کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آتا ایک ظالمانہ اور و حیا نہ فعل نہ تھا بلکہ یہ ایک پر مغز اور باطنی قربانی تھی جس سے آج بھی دنیا فائدہ اٹھارہی ہے اور آج بھی حضرت اسماعیل کے ذریعے اس وادی میں خدائے واحد کا نام بلند کیا جارہا ہے اور آج بھی وہاں بیک الله یک کہہ کر حضرت ابراہیم کی طرح توحید کو پھیلانے کے لیے حاضر ہونے کا اعلان کیا جا رہا ہے کیا حضرت ابراہیم حضرت با جرگہ اور حضرت اسماعیل کو بے آب و گیاہ مینگل میں چھوڑ آنے کے بعد بھی ان کی خبر گیری کرتے رہے ؟ ج :- حضرت ابراہیم اگر چہ فلسطین میں مقیم تھے۔مگر برا بر مکہ کی بے آب و گیاہ وادی ہیں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو دیکھنے آتے رہتے تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم جب اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنے آئے تو انہیں اسماعیل