رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 91
۹۱ دور کر سکتی ہیں۔اے میرے باپ ! مجھے ایک خاص علم عطا کیا گیا جو تجھے نہیں ملا پس تو میری اتباع کہ میں تجھے سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔اے میرے باپ ا تو شیطان کی عبادت نہ کر۔یقیناً شیطان رحمن خدا کا نا فرمان ہے میں تیرے متعلق رشن خدا کی طرف سے آنے والے عذاب سے ڈرتا ہوں۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تو شیطان کا دوست بن جائے گا۔سورۃ مریم میں حضرت ابراہیم کی اپنے باپ کے ساتھ اس بحث اور مناظر سے کا ذکر آیا ہے۔ا قَالَ لَابِيهِ يَا بَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِيرُ وَلا يُغْنِي عَنكَ شَياً ، يَا بَتِ إِنِي قَدْ جَاءَ نِي مِنَ الْعِلْمِ مَالَمُ يَاتِكَ فَاتَّبِعَنِي اهْدِكَ صِرَاطَ سَرِيَّا۔يَابَتِ لا تَعَبدِ الشَّيطن إنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَمِيَا ، يَابَتِ إني أَخَاتُ أَن يَسَكَ عَذَابٌ مِّنَ اللرِحُمْنِ نَتَكُونَ الشيطن ولياه :۔باپ نے حضرت ابراہیم کی باتوں کوشن کر کیا جواب دیا ؟ ج : اُس نے کہا کہ اسے ابراہیم تو میرے معبودوں سے نفرت کرتا ہے اور اگر تو اس طریق سے باز نہ آیا تومیں تجھے سنگھار کر دوں گا۔لوگوں کے سامنے تجھ سے نفرت کا اظہار کروں گا اور اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے اپنے گھر سے نکال دوں گا۔پس کچھ دیر کے لیے میری نظروں سے او شبل ہو جا۔شکی: حضرت ابراہیم کو ان کے اب لینی چا اور اچازاد بھائیوں نے کیا مشورہ دیا تھا ؟ ج : حضرت ابراہیم کے خاندان کا گزارہ ہی بتوں کے چڑھا دوں اور بتوں کی فروخت پر ہوتا تھا اس لیے ان کے چچا اور چچازاد بھائیوں نے ان کو مشورہ دیا کہ ہم بود بہت ہیں اور ہمارا گزارہ بھی اسی پر ہے اور اگر تم نے خود بھی نیتوں کی پرستش نہ کی تو ہمارا رزق بند ہو جائے گا۔