رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 105
۱۰۵ دکھا یا۔ج۔حضرت ابراہیم نے بادشاہ وقت اور قوم کے سامنے یہ بات روشن کردی کہ ربوبیت اور الوہیت کا حق صرف خدا تعالیٰ کو حاصل ہے اور کسی بڑے سے شہنشاہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کی برابری اور ہمسری کا دھوئی کرے۔کیونکہ وہ اور تمام دنیا خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے۔ستش۔کیا طالمود میں بھی اس بحث کا ذکر ملتا ہے ؟ ج۔جی ہاں طالور میں بھی اس بحث کا ذکر ہے۔لیکن طالمجود اور قرآن مجید کے بیان میں فرق ہے۔قرآن مجید میں زندہ کرنے اور مارنے کا ذکر پہلے ہے اور سورج کے تبدیل کرنے کا ذکر بعد میں آتا ہے لیکن ظالمو د میں سورج کی تبدیلی کا ذکر پہلے ہے اور احیاء و امانت کا بعد میں۔ظالموں میں لکھا ہے کہ : جب حضرت ابراہیم نمرود بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے آپ کو کہا کہ تو بتوں کی پوجا کیوں نہیں کرتا۔اس نے کہا جن کہ آگ جلا دیتی ہے۔اُن کی کیا پوچھا کروں۔اس نے کہا پھر آگ کی کیوں نہیں کرتا انہوں نے کہا مجھے پانی بجھا دیتا ہے اس کی کیا پر جا کروں۔اس نے کہا پھر پانی کی کیوں نہیں کرتے۔انہوں نے کہا پانی کو تو بادل لاتا ہے اس نے کہا پھر بادلوں کی کیوں نہیں کرتا۔انہوں نے کہا اُن کوہ ہوا اثرا لے جاتی ہے۔اس نے کہا پھر ہوا ہی کی کر۔انہوں نے کہا کہ انسان اس سے بھی بچاؤ کہ لیتا ہے اور بچ جاتا ہے اور وہ اس پہ غالب نہیں آتی۔اس نے کہا۔پھر مجھے پو جو۔کیو نکہ میں انسانوں کا خدا ہوں۔انہوں نے کہا تمہارے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں اگر تو خدا ہے تو پھر سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا۔شش۔بادشاہ وقت اور قوم ابراہیم جب حضرت ابراہیم کے دلائل ہستی