رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 97
96 کرے تو اس سے ڈرتا ہوں۔میرے رب نے ہر ایک چیز کا علم سے احاطہ کیا ہوا ہے پھر کیا تم سمجھتے نہیں۔اور میں اس چیز سے جسے تم خدا کا شریک بناتے ہو کس طرح ڈر سکتا ہوں جب کہ اس چیز کو جس کے متعلق اس نے تم پر کوئی دلیل نہیں اُتاری تم اللہ کا شریک بنانے سے نہیں ڈرتے س اگر تم کچھ علم رکھتے ہو تو بتاؤ کہ ہم دونوں فریق میں سے کون سا امن میں رہنے کا زیادہ ستی ہے۔قَالَ اتحاجو تي في اللهِ وَقَدْ هَذِينُ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِه إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ ري كُلَّ تَني عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنكُمْ أَشْرَكُم بِاللهِ مَا لَمْ يُنَزِّكَ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَنَا، فَاقُ الفَر اَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۚ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَة رسورة الانعام آیت ۸۲۸۱) س : حضرت براہیم نے بتوں کے متعلق اپنے دل میں ان کے لیے کیا سوچا ؟ ج : حضرت ابراہیم نے جب یہ دیکھا کہ قوم بت پرستی میں بری طرح مبتلا ہو چکی ہے۔اور حق کی باتوں کا اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو آپ نے کہا۔وَنَا للَّهِ لا كِيْدَنَ أَهْنَا مَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ و سورۃ الانبیا مرکوریا ۵ا آیت (۵۸) ترجمہ اسخدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تومیں تمہارے بتوں کے خلاف ایک پکی تدبیر کروں گا۔سکیں، حضرت ابراہیم نے بتوں کے خلاف اپنی اس تد بیر کو علی جامہ کسی طرح پہنایا ہے ج المن اتفاق سے ایک نداہی تہوار کے سلسلے میں قوم کے سب افراد کو جاناپڑر الور جب انہوں نے حضرت ابراہیم سے ساتھ چلنے کے لیے احرار کیا تو آپ نے